.

جاسوسی پروگرام، عالمی رہنماوں کے حوالے سے مرحلہ وار بندش؟

جزوی بندش فیصلہ این ایس اے نے کیا،اوباما کے دستخط نہیں ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے اپنے قومی سلامتی کے ادارے کے ہاتھوں جرمن چانسلر انجیلا میرکل سمیت 35 عالمی رہنماوں کی جاسوسی کا سلسلہ روکنے کا فی الحال جزوی فیصلہ کیا ہے ۔ یہ اہم اورحساس نوعیت کا جزوی فیصلہ چانسلر انجیلا میرکل اور فرانس کے صدر فرانسسکو ہالینڈ کی طرف سے امریکی صدر او باما سے فون پر شکایت کیے جانے اور عالمی سیاست میں امریکا کی سب سے اہم اتحادی یورپی برادری کے متوقع احتجاج کے باعث کیا گیا ہے۔

واضح رہے اسی نوعیت کی امریکی جاسوسی کے انکشافات امریکی عرب اتحادیوں کے حوالے سے بھی سامنے آئے ہیں اور صرف سال رواں کے پہلے مہینے میں مجموعی طور پر امریکی سلامتی کے ادارے نے ایک کھرب اور پچیس ارب کی تعداد میں فون کالز، ایس ایم ایس یا دیگر مواصلاتی رابطوں کو مانیٹر کیا ہے ۔ اس جاسوسی کی زد میں عرب کلچر کے امین اورعرب دنیا کے سرخیل امریکی اتحادی سعودی عرب کو بھی نہیں بخشا گیا ۔ البتہ حالیہ دنوں سعودی عرب کے قریب آنے والے فرانس کے صدر یا جرمنی کی خاتون سربراہ کی طرح مشرق وسطی کے کسی حکمران نے امریکا سے اس طرح کا احتجاج نہیں کیا ہے۔

امریکی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ عالمی رہنماوں کے بارے میں کی جانے والی جاسوسی کی خبریں وائٹ ہاوس کے سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے ۔ اس سے پہلے یہ اطلاعات آئی تھیں کہ امریکی صدر اوباما کے سامنے یہ 2010 میں لا یا گیا تھا کہ جرمن چانسلر کے فون ٹیپ کیے جا رہے ہیں۔ تاہم صدر اہباما نے اس بارے میں کوئی ممانعت نہیں کی تھی۔ جرمن چانسلر نے اسی پر شکوہ کیا تھا کہ دوستوں کی جاسوسی باہمی اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق جاسوسی کے منصوبے پر نظر ثانی سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے این ایس اے 35 عالمی رہنماوں کے فون ٹیپ کرتا تھا۔ تاہم یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ اس نئے فیصلے کے مطابق ابھی جاسوسی کے بعض پروگرام ختم کرنے کا صرف شیڈول تیار کیا گیا ہے انہیں بند نہیں کیا گیا ہے۔

ایک ذمہ دار افسر کا کہنا تھا ہے ''این ایس اےکے ایسے کئی خفیہ پروگرام ہیں ان سب کے بارے میں صدر اوباما کو بریفنگ دینا عملا ناممکن ہے۔''

اس اخباری ذریعے کے مطابق اوباما کو جاسوسی کے مجموعی منصوبے کے بارے میں بریف کیا گیا تھا۔ جزئیات پر بات نہیں ہوئی تھی۔ نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نیا منصوبہ این ایس اے کے تحت بنایا گیا ہے اس پر صدر اوباما کے دستخط نہیں ہوئے ہیں۔
ان امریکی ذرائع نے جاسوسی کے پروگرام کی بندش کو ایک پیچیدہ کام قرار دیا کہ اس سے جرمن چانسلر دوسروں سے کہہ سکیں گی کہ واشنگٹن عالمی رہنماوں کی جاسوسی کر رہا ہے۔

اسی اثناء میں امریکی سکیورٹی ادارے کی ترجمان وانی وینز نے اس امر کی تردید کی ہے کہ ''صدراوباما کو 2010 میں چانسلر انجیلا میرکل کی جاسوسی کے بارے میں بتایا گیا تھا نہ ہی اب جاری پروگراموں کے حوالے سے ان کے علم میں ہے کہ جرمن چانسلر کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔''

امریکی ترجمان کی یہ تردید ایسے وقت میں آئی ہے جب سابق امریکی جاسوس ایڈورڈ سنوڈن نے دستاویزی بنیادوں پر اس سلسلے میں انکشافات کیے ہیں۔

واضح رہے این ایس اے کے بارے میں ان اہم انکشافات کے بعد جمعہ کے روز این ایس اے کی ویب سائٹ بھی کچھ گھنٹوں کیلیے بند رہی تھی۔ عالمی رہنماوں کی جاسوسی کی جزوی اور مرحلہ وار بندش کا فیصلہ ویب سائٹ کے کچھ دیر کے لیے بند رہنے کے دو روز بعد سامے آیا ہے۔