.

جنیوا: چھ اہم ملکوں کیساتھ مذاکرات کیلئے ایرانی سفارتکار تیار

ایرانی جوہری تنازعے پر مذاکرات کا دوسرا مرحلہ 7 اور 8 نومبر کو ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آئندہ ماہ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر دینا کے چھ بڑے ملکوں اور ایران کے درمیان جنیوا میں مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہونے کی تیاری ہے ۔ دوسرے دور سے پہلے رواں ہفتے کے دوران عے ہفتے ایرانی مزاکراتی ٹیم ویانا میں اس سلسلے میں کئی اہم ملاقاتیں کرے گی۔

یاد رہے کہ جینیوا میں ان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ دو دن کیلیے 7 اور 8 نومبرکو ہو گا۔ اطلاعات کے مطابق ایران کے نائب وزیرِ خارجہ اور جوہری پروگرام پر مذاکرات کیلیے ایرانی وفد کے سربراہ عباس عراقچی اقوامِ متحدہ کے جوہری واچ ڈاگ کے سربراہ یوکیہ امانو سے ملاقات کریں گے۔ اسی روز جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے ذمہ داران سے بھی ملاقات ہو گی۔

جبکہ بدھ اور جمعرات کے روز 7 ماہرین پر مشتمل ایرانی وفد اپنے امریکی، برطانوی، فرانسیسی، چینی، روسی اور جرمن ہم منصبوں سے ملاقاتیں کرے گا تاکہ جینیوامذاکرات میں پیش رفت کی راہ ہموار کرنے میں مدد مل سکے۔ یاد رہے کہ تمام مذاکراتی عمل بند دروازوں کے پیچھے کیا جائےگا ۔ جبکہ آئی اے ای اے کی ملاقات کے بعد ادارے کے نومنتخب چیف انسپیکٹر ٹیرو وارجورانتا صحافیوں سے گفتگو کیلئےایک نیوز کانفرنس کا اہتمام کریں گے۔

عالمی طاقتوں کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام کا اصل مقصد ایٹمی ہتھیارحاصل کرنا ہے جبکہ تہران اس الزام کو رد کرتا چلا آرہا ہے اور اس بات پر زور دیتا چلا آرہا ہے کہ اسکا ایٹمی پروگرام "پرامن" سول ضروریات پورا کرنے کیلئے ہے۔ ایران نے ماضی میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی کئی قراردادوں اور پابندیوں کے باوجود اپنی ایٹمی پروگرام کی جانب پیش رفت نہیں روکی تھی۔

اگست میں صدارت کے منصب پر آتے ہی اصلاح پسند صدر حسن روحانی نے عالمی برادری میں کئی امیدیں اجاگر کیں تا کہ امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات میں پیش رفت کے لیے ایران کے ایٹمی تنازعے کا پرامن حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔

ستمبر میں ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کے ساتھ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک ایک ملاقات کی۔ اسکے بعد صدر اوباما اور روحانی نے تاریخی فون کال کے ذریعے آپس میں بات کی۔ یاد رہے کہ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد پہلی مرتبہ ایران اور امریکا کے لیڈر آپس میں ہمکلام ہوئے ہیں۔

تاہم جینیوا مذاکرات میں 15-16 اکتوبر کو ہونے والی نشست کے دوران ایرانی وفد نے عالمی قوتوں کے سامنے ایک نئی تجویز رکھی جس کے تحت ایرانی وفد کے سربراہ کے مطابق"ایک سال میں ایرانی جوہری تنازعہ ختم کردے گی"۔ خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی نائب وزیرِ خارجہ نے امید کا اظہار کیا اور کہا ''ایران خلوص دل اور صاف نیت سے ایک نئی راہ اپنا کر کم عرصے میں باقی مسائل کا حل تلاش کرنے میں مگن ہوجائے گا۔"