سعودی عرب میں اذان اور نماز باجماعت کا درمیانی وقفہ کم کرنے کی تجویز

"شہروں سے باہر بازاروں کی بندش مسافروں کے لیے پریشانی کا باعث ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں علماء نے اذان اور اقامت نماز کے درمیان وقفہ کم کرنے کی تجویز دی ہے جس پر محکمہ مذہبی امور سے رائے طلب کی گئی ہے۔

اسلامی یونیورسٹی امام محمد بن سعود میں فقہ المعاصر کے استاد ڈاکٹرعیاض السلمی نے بتایا کہ ان کی جامعہ نے عوام الناس کی سہولت کے لیے اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ کم کرنے کی تجویز پرمبنی ایک نیا نظام الاوقات تیار کر کے حتمی منظوری کے لیے محکمہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے پاس بھیجا ہے۔

العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ السلمی نے کہا کہ نماز کے نئے نظام الاوقات کی تیاری میں پانچ سرکردہ علماء اور فقہاء نے حصہ لیا ہے اور تاریخی روایات کو سامنے رکھتے ہوئے اسے مرتب کیا گیا ہے۔

درایں اثناء معروف عالم دین اور شرعی عدالت کے سابق جج عبدالعزیزالقاسم نے کہا ہے کہ شہروں سے باہر کے علاقوں بالخصوص شاہراؤں پرموجود دکانوں اور تجارتی مراکزکو اوقات نماز میں بند کرنے سے مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے چونکہ مسافروں کے لیے باجماعت نماز ادا کرنا ضروری نہیں ہے اس لیے مفاد عامہ کے پیش نظران تجارتی مراکز کو اوقات نماز میں کھلا رکھا جا سکتا ہے۔

العربیہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ عبدالعزیزالقاسم نے کہا کہ حکومت کوچاہیے کہ وہ تجارتی مراکز کے اندر ہی باجماعت نماز کے انتظامات کرے تا کہ دکانداروں کو دور جا کر نماز ادا نہ کرنی پڑے اور زیادہ دیرتک دکانیں بند رکھنے کی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے جامعہ الامام کی جانب سے اذان اور نماز کے درمیان وفقہ کم کرنے کی تجویز کی حمایت کی اور کہا کہ جدید شرعی مسائل کی جانب یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے سماج اور شریعت کے درمیان توازن پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں