.

پچیس ملین ریال کی دیت کے عوض نجران قبائل کا تین سالہ تنازعہ ختم

قبائلی جرگے میں 20 ہزار افراد کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے جنوبی ریجن نجران میں دو قبائل کے درمیان پچیس ملین ریال کی دیت کے عوض تین سال سے جاری تنازعہ کے بعد صلح ہو گئی ہے۔

نجرانی قبائل آل عفان اور آل الصقور کے دو افراد کے درمیان تین سال قبل لڑائی کے نتیجے میں ایک شخص کی ہلاکت کے بعد تنازعہ شدت اختیار کر گیا تھا، جس کے بعد قبائلی عمائدین مقتول کے ورثاء اور مبینہ قاتل کے درمیان صلح کرانے کی انتھک کوششیں کرتے رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تین سال قبل کسی معاملے پرآل الصقور کے ایک شخص نے آل عفان قبیلے کے ایک نوجوان کوقتل کردیا تھا۔ آل عفان نے اپنے نوجوان کی ہلاکت کا قصاص لینے کا فیصلہ کر رکھا تھا۔

اتوار کے روزنجران میں دونوں قبائل کے درمیان ہونے والے ایک صلح کے معاہدے میں آل عفان نے قصاص سے دستبرداری کااعلان کرتےہوئے کوپچیس ملین ریال دیت پرمعاملہ نمٹا دیا۔ جرگے میں دونوں قبیلوں کے کم سے کم بیس ہزار افراد نے شرکت کی۔

قبل ازیں مقتول کے والد نے 70 ملین ریال اور ایک پلاٹ دیت میں مانگی تھی جسے بعد ازاں دونوں قبیلوں کی سرکردہ شخصیات نے صرف پچیس ملین ریال کی دیت لیکر قاتل کو معافی دینے کے لئے قائل کر لیا تھا۔