.

''میں جس سے پیار کرتا ہوں اسی کو مار دیتا ہوں''

امریکا کیطرف سے یورپی ممالک کی بعد عرب ملکوں کی بھی جاسوسی کے انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا جسے آج کل اپنے یورپی اتحادی ممالک میں تنقید اور ناراضگی کا سامنا ہے کے بارے میں نیا انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ مشرق وسطی میں بھی امریکا کے قریبی اور اتحادی ممالک اس کی جاسوسی پر مبنی سرگرمیوں سے محفوظ نہیں ہیں. سال رواں کے صرف ماہ جنوری کے دوران عرب ممالک میں امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے 125 ارب فون کالز یا ایس ایم ایس اور اس طرح کے دوسرے مواصلاتی ذرائع کی مانیٹرینگ کی ہے۔

امریکا کا دہشت گردی کے خلاف اتحادی سمجھا جانے والا سعودی عرب مشرق وسطی کے امریکی جاسوسی کے عذاب اور عتاب سے سب زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے صرف سعودی اور عراق میں ماہ جنوری کے دوران سات اعشاریہ آٹھ ارب کی تعداد میں کمیونیکیشنز کو مانیٹر یا ٹیپ کیا۔

گویا کوِئی ملک امریک کا دوست ہو یا دشمن اس سے فرق نہیں پڑتا بلکہ اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ جو جتنا قریبی تعلق کا حامل ملک ہو گا امریکی نظر میں اتنا ہی زیادہ مشکوک ہو گا۔

امریکا کے جاسوسی سے متعلق ادارے کے حوالے سے سامنے والے انکشافات کے مطابق اردن اور مصر میں بالترتیب ایک ارب اسی کروڑ اور ایک ارب ساٹھ کروڑ فون وغیرہ ٹیپ کیے گئے، جبکہ ایران میں یہ تعداد اتحادی اردن سے بھی کم یعنی ایک ارب ستر کروڑ رہی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جن ممالک میں امریکا کی تعلقات کی خرابی کی وجہ سے رسائی مشکل ہوتی ہے وہ ممالک امریکی جاسوسی سے نسبتا کم متاثر ہوتے ہیں۔

یورپی ممالک کے بعد مشرق وسطی کے اتحادیوں کے بھی امریکا کی اس ''دوستانہ جاسوسی'' کی زد میں رہنے کے انکشافات سے مزید امریکی دوستوں کی ناراضگی کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔ خصوصا سعودی عرب جو پہلے ہی اقوام متحدہ کے بارے میں مایوسی ظاہر کر کے درحقیقت امریکی پالیسیوں پر ہی افسوس کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ فرانس کے صدر اور جرمنی کی چانسلر فون کر کے امریکی صدر اوباما سے فون ٹیپ کرنے کی شکایت کر چکی ہیں اور آئندہ دنوں یورپی ممالک مزید احتجاج کا اردہ رکھتے ہیں، تاہم ابھی مشرق وسطی میں سے کسی ملک نے امریکا سے احتجاج نہیں کیا ہے۔