ایرانی فورسز کی سرحدی علاقے میں کارروائی،4 باغی جنگجو ہلاک

پاکستان کی سرزمین پرہماری فورسز کو ڈاکوؤں کا پیچھا کرنے کا حق حاصل ہے:ایرانی جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کی سکیورٹی فورسز نے ایک تازہ جھڑپ میں ایک انتہا پسند باغی گروپ کے چار کارکنان کو ہلاک کردیا ہے۔مہلوکین کے بارے میں ایک ایرانی کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے میں چودہ ایرانی محافظوں کی ہلاکت کے واقعہ میں ملوث تھے۔

ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے بارڈر گارڈز کے کمانڈر بریگیڈئیر جنرل حسین ذوالفقاری کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ''ہماری جیش العدل کے ساتھ جھڑپ ہوئی ہے اور ہم نے ان میں سے چار کو ہلاک کردیا ہے''۔تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ تازہ جھڑپ کب اور کہاں ہوئی ہے۔

جیش العدل نے ایران کے جنوب مشرقی صوبہ سیستان، بلوچستان کے پہاڑی علاقے میں گذشتہ جمعہ کو تباہ کن حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس حملے میں ایران کے چودہ سرحدی محافظ ہلاک اور سات زخمی ہوگئے تھے۔

ایران نے اس واقعے کے بعد سولہ ''باغیوں'' کو پھانسی چڑھانے کی اطلاع دی ہے۔ان میں سے آٹھ مزاحمت کار اور آٹھ منشیات کے اسمگلر تھے اور انھیں عدالتوں سے پھانسی کی سزا سنائی جاچکی تھی۔

ایرانی بریگیڈئیر جنرل نے منگل کی سہ پہر ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ ''وہ ہمارے خلاف جو بھی اقدامات کریں گے،ہمارا ردعمل سخت تر ہوگا''۔انھوں نے بتایا کہ مارچ 2013 ء کے بعد سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں سڑسٹھ جھڑپوں میں بیس ڈاکوؤں کو ہلاک کیا جاچکا ہے''۔

جنرل حسین ذوالفقاری نے خبردار کیا کہ ایران کو پاکستان کی سرزمین پر بھی ڈاکوؤں کا پیچھا کرنے کا حق حاصل ہے اور ان کے یونٹ نے پاکستانی ہم منصبوں کو اس حوالے سے آگاہ کردیا ہے۔

ایران نے اسلام آباد حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کو کنٹرول کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔اس کے بہ قول سرحدی محافظوں پر حملہ کرنے والے جنگجو پاکستان سے سرحدپار کرکے آئے تھے اور حملے کے بعد وہ سرحد ہی کی جانب چلے گئے تھے۔

ایران کا کہنا ہے کہ وہ اس طرح کے حملوں کو روکنے کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالے گا۔ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخام نے منگل کو اپنی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ ''نائب وزیرخارجہ حالیہ حملے سے متعلق بات چیت کے لیے پاکستان کا دورہ کریں گے''۔

واضح رہے کہ ایران کے جنوب مشرقی علاقے میں ایک اور جنگجو گروپ جنداللہ بھی ماضی میں شہریوں اور سرکاری اہلکاروں پر حملے کرتا رہا ہے۔ایران نے اس تنظیم کے سربراہ عبدالمالک ریگی کو جون 2010ء میں گرفتار کرنے کے بعد پھانسی چڑھا دیا تھا۔

پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقع اس شورش زدہ علاقے میں اہل سنت کی اکثریت ہے اور وہ پاکستانیوں کے ساتھ غیرسرکاری طور پر تیل سمیت مختلف اشیاء کی تجارت بھی کرتے رہتے ہیں۔اس علاقے میں منشیات کے اسمگلروں اور جنگجوؤں کی ایرانی سکیورٹی فورسز کے ساتھ وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں