ایران میں حکومت مخالف اداکارہ بکاہ اہنکرانی گرفتار

اہنکرانی ایران کے اصلاح پسند خاندان سے تعلق رکھتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی پولیس نے اصلاح پسند اداکارہ بکاہ اھنکرانی کو حراست میں لینے کے بعد تہران کے شمال میں واقع ایفین جیل منتقل کردیا ہے۔

محروس اداکارہ کی والدہ مانیتزہ حکمت نے خبر رساں ایجنسی" ایسنا" کو بتایا کہ پچھلے تین سال کے دوران اس کی بیٹی کواندرون اور بیرون ملک کئی پروگرامات میں شرکت کے دعوت نامے موصول ہوئے مگر حکومت کی جانب سے اس پرعائد سفری پابندیوں کے باعث وہ ان میں شرکت نہیں کرسکی ہے۔ مسز حکمت نے بتایا کہ میری بیٹی نے فارسی میں بننے والی فلم "دربند" میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ اس فلم کی امریکی شہر شیکاگو میں نمائش کی جا رہی ہے لیکن وہ اس میں شریک نہیں ہوسکے گی۔

خیال رہے کہ بکاہ اھنکرانی کی والدہ مانیتزہ حکمت اور والد جمشید اھنکرانی بھی ایران کے مشہور فلم پروڈیوسر گردانے جاتے ہیں۔ ان کا تعلق ایران کے اصلاح پسند خاندان سے ہے۔ سنہ 2011ء میں ایران میں میرحسین موسوی کی قیادت میں شروع ہونے والی سبز انقلاب کی تحریک میں بھی یہ خاندان بالخصوص اہنکرانی پیش پیش رہی ہیں، جس کے باعث اسے حراست میں لے لیا گیا تھا۔ کئی ماہ کے بعد ضمانت پراس کی رہائی عمل میں آئی تھی۔ سنہ 2011ء میں ایرانی انٹیلی جنس حکام نے اہنکرانی کا پاسپورٹ اس وقت ضبط کرلیا تھا جب وہ جرمنی کے سالانہ فٹ بال ٹورنامنٹ کی ٹی وی پر کمنیٹری کے لیے بیرون ملک جانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

پاسداران انقلاب کے مقرب خبر رساں ایجنسی"فارس" نے بھی اپنی خبر میں بکاہ اہنکرانی کی گرفتاری کا اشارہ دیا ہے۔ تاہم اس کا پورا نام لکھنے کے بجائے صرف "ب، الف" لکھا گیا ہے۔ تازہ گرفتاری کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے اور نہ ہی ایرانی عدالتی حکام کی جانب سے اس کی کوئی وضاحت سامنے آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں