شام کے شمال مشرقی علاقے میں پولیو کا وائرس پھیلنے کی تصدیق

مہلک مرض سے 22 افراد متاثر،10 میں پولیو ون کی تصدیق،12 کے نتائج کا انتظار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عالمی ادارہ صحت (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ڈبلیو ایچ او) نے خانہ جنگی کا شکار شام کے شمال مشرقی علاقے میں پولیو کے پھیلنے کی تصدیق کردی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ترجمان اولیور روزن بوئر نے جنیوا میں منگل کو ایک نیوزبریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ ''شام میں پولیو سے متاثرہ بائیس کیسوں کی تحقیقات کی گئی ہے۔ان میں سے دس کو پولیو کے لاحق ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے۔وہ پولیو کی قسم اول کا شکار ہوئے ہیں۔اب شام کے شمال مشرقی صوبے دیرالزورسے تعلق رکھنے والے باقی بارہ مشتبہ کیسوں کے لیبارٹری نتائج کا انتظار ہے''۔

مسٹر روزن بوئر نے کہا کہ پولیو ایک وبائی مرض ہے اور مریضوں کی نقل وحرکت کی وجہ سے یہ دوسرے علاقوں میں منتقل ہوسکتا ہے۔اس لیے اب خطے میں اس کے پھیلنے کے بہت زیادہ خدشات ہیں''۔

پولیو کا مرض وائرس سے پھیلتا ہے اوربالعموم آلودہ ماحول ،گندگی اور انسانی فضلات سے یہ پھیلتا ہے اورعام طور پر بچوں میں ایک سے دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔پولیو کا وائرس اعصابی نظام پر حملہ آور ہوتا ہے اور یہ گھنٹوں میں اعصابی نظام کو ناکارہ کرکے جسمانی اعضاء کو مفلوج کردیتا ہے۔ بچوں میں معذوری کی صورت میں اس کی علامات ظاہرہوتی ہیں اور اس سے قبل اس کا مریض میں ہرگز بھی پتا نہیں چلتا۔

شامی حکومت نے پولیو پر قابو پانے کے لیے ملک بھر میں قطرے پلانے کی مہم شروع کررکھی ہے لیکن خانہ جنگی کا شکار بہت سے علاقوں میں پولیو ٹیموں کی رسائی نہیں ہوسکی ہے۔شام میں چودہ سال کے بعد پولیوکے کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے۔اس سے پہلے ؁ 1999ء میں پولیو کے کیس سامنے آئے تھے۔

شام میں پولیو کے علاوہ ٹائیفائیڈ ،ہیپاٹائٹس اور مردہ جانوروں کا گوشت کھانے سے لاحق ہونے والے جلدی مرض پیراسائٹ لیشمینیاسیس کے کیس بھی سامنے آرہے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ ویکسی نیشن پروگرام پر عمل درآمد نہ ہونا ہے اور دوسرا بڑا سبب لوگوں کا پست معیار زندگی،آلودہ ماحول اور حفظان صحت تک رسائی نہ ہونا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ شام کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر پولیو اور دوسرے وبائی امراض پھوٹ پڑنے کا اندیشہ ہے۔

شمالی شہر حلب میں جلدی مرض کے سب سے زیادہ کیس سامنے آئے ہیں۔شام کے اس شہر کی گلیاں اور بازار کوڑے کرکٹ اور جانوروں کی غلاظت سے بھرے پڑے ہیں جس کی وجہ سے مکھیوں سے انسانوں میں جلدی امراض لاحق ہورہے ہیں اور وہ پھلبہری کی طرح کے جلدی السر کا شکار ہورہے ہیں۔

انسداد پولیو کے عالمی پروگرام کے حالیہ اعدادوشمار کے مطابق اس سال اب تک دنیا بھر میں پولیو کے 306 کیس سامنے آئے ہیں۔جب ایک مرتبہ پولیو ہوجائے تو اس کا کوئی علاج نہیں ہے لیکن بچوں کو ابتدائی عمر میں اس سے بچاؤ کے قطرے پلا کر پوری زندگی کے لیے اس مرض سے بچایا جاسکتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی ایک جگہ پولیو ہو تو پھر دنیا بھر کے ممالک اس کے خطرے سے دوچار رہیں گے۔

ڈبلیو ایچ او کے ایک ترجمان طارق جساروچ نے اگلے روز بتایا تھا کہ حالیہ مہینوں کے دوران عالمی ادارے نے شام میں خطرناک وبائی امراض کو پھوٹ پڑنے سے روکنے کے لیے ''ابتدائی اطلاعی اور ردعمل نظام'' قائم کیا ہے۔شام میں حکومت اور اپوزیشن کے کنٹرول والے علاقوں میں 291 کارکنان کام کررہے ہیں۔وہ امراض کی پہلے نشاندہی کرتے ہیں اور پھر ہم ان کی تحقیقات کرتے ہیں۔اس نیٹ ورک نے اب تک شام کے مختلف علاقوں میں ہیپاٹائٹس اے ،لیشمینیاسیس ، ٹائیفائیڈ اور خسرے کے کیسوں کا پتا چلایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں