صومالیہ میں امریکی فوج کا ڈرون حملہ، الشباب کا سربراہ ہلاک

ابراہیم علی عبدی کی کار پر ڈرون سے تین میزائل داغ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

صومالیہ میں امریکی فوج کے ایک ڈرون حملے میں شدت پسند گروپ الشباب سے تعلق رکھنے والے ایک کلیدی رہنما ہلاک ہو گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق الشباب کے خودکش حملوں کا منصوبہ ساز، ابراہیم علی عبدی اُس وقت ہلاک ہوا جب وہ کار جس میں وہ سفر کر رہا تھا، ڈرون سے داغے گئے تین میزائلوں کی زد میں آئی۔ یہ فضائی حملہ جنوبی صومالیہ کے ایک قصبے، جلیب کی مشرقی سڑک پر واقع ہوا۔

ایک صومالی انٹیلی جنس ذریعے نے بتایا کہ عبدی، جن کو ’انت انت‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، اُس نے ہی 2008ء میں صومالی لینڈ میں ہونے والی بمباری کی منصوبہ بندی کی تھی، جس کا ہدف صدارتی محل، ایتھیوپیا کا قونصل خانہ اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے دفتر بنے۔

امریکی عہدے داروں کی طرف سے حملے کے بارے میں فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

گروہ کی طرف سے گذشتہ ماہ نیروبی کے شاپنگ مال پر حملے کے بعد، جس میں 60 سے زائد شہری ہلاک ہوئے، امریکہ اور اُس کے اتحادی الشباب پر دباؤ جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں