خرطوم: ایک جامعہ میں چھاپہ مار کارروائی، 9 پروفیسر گرفتار

سرکاری سکیورٹی ایجنسی نے پروفیسروں کو کسی نامعلوم مقام پر منتقل کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سوڈان کی سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت خرطوم کے جڑواں شہر عمودالرحمان سے ایک جامعہ کے نو پروفیسروں کو گرفتار کر لیا ہے۔

سوڈانی اسٹیٹ سکیورٹی بیورو کے اہلکاروں نے صدر عمرالبشیر کی سیاسی مذاکرات اور اصلاحات سے متعلق تقریر کے چند گھنٹے کے بعد ہی عمود الرحمان کی جامعہ احفاد میں یہ چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور حکومت کے خلاف بولنے والے پروفیسروں کو گرفتار کرکے کسی نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

سوڈان کی انسانی حقوق مانیٹرنگ ایسوسی ایشن کے سربراہ اور معروف وکیل نبیل ادیب نے ان پروفیسروں کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ انھیں گذشتہ روز( سوموارکو) شام کے وقت جامعہ احفاد سے پکڑا گیا تھا۔اس وقت وہ ایک اجلاس میں شریک تھے۔

انھوں نے کہا کہ ان پروفیسروں کو گرفتار کرنے کے بعد کسی نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ان میں سے دو مریض ہیں اور ایک خاتون پروفیسر بچے کی ماں ہے۔انھوں نے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری صورت میں حکام سے کہا ہے کہ وہ ان کے وکیل کو ان تک رسائی دیں اور معالج ان کا معائنہ کریں۔

سوڈانی کارکنان کا کہنا ہے کہ ملک کا خفیہ ادارہ اسٹیٹ سکیورٹی بیورو جن لوگوں کو گرفتار کرتا ہے،انھیں عام طور پر کسی فرد الزام کے بغیر ہی زیرحراست رکھاجاتا ہے اور ان کے لواحقین کو ان کے اتا پتا کے بارے میں بھی کچھ معلوم نہیں ہوتا۔

سوڈانی صدر عمر حسن البشیر نے سوموار کو پارلیمان کے نئے سیشن کے افتتاح کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے ملک میں اصلاحات اور سیاسی مذاکرات کی بات کی تھی۔انھوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ستمبر میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد اب ملکی حالات پر معمول پر آگئے ہیں ،اس لیے پریس سنسرشپ کو نرم کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ستمبر کے اوائل میں حکومت کی جانب سے ایندھن پر دیے جانے والے زرتلافی کے خاتمے کے خلاف خرطوم اور دوسرے شہروں میں طلبہ سمیت ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہروں کیے تھے۔مظاہرین کے خلاف سوڈانی فورسز کے کریک ڈاؤن میں کم سے کم دوسو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔تاہم حکام نے صرف ستر کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔گرفتار کیے گئے افراد میں ستر ابھی تک زیرحراست ہیں اور ان میں سے اٹھاون کے خلاف اب عدالتوں میں مقدمات چلائے جارہے ہیں۔

صدر بشیر کی جماعت نیشنل کانگریس پارٹی (این سی پی) میں سکیورٹی فورسز کے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے معاملے پر پھوٹ پڑ گئی تھی اور جماعت کے تیس معروف اصلاح پسند لیڈروں نے صدر کو ایک عوامی یادداشت پیش کی تھی۔اس میں حکومت کے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی مذمت کی گئی تھی۔این سی پی نے ان میں سے تین لیڈروں کو برطرفی کے نوٹس جاری کردیے تھے جس کے بعد یادداشت پیش کرنے والے تمام لیڈروں نے گذشتہ ہفتے ایک نئی جماعت بنانے کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے مظاہرے کرنے والے شہریوں پر فورسز کی فائرنگ کی آزادانہ تحقیقات اور حکومت سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے ملک کی اقتصادی پالیسی پیشہ ور ماہرین کے حوالے کرنے ،پریس سنسر شپ کے خاتمے اور پرامن اجتماع کے آئینی حق کے احترام کا بھی مطالبہ کیا ہے لیکن حکومت مخالف بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمر حسن البشیر اپنے مخالفانہ نقطہ نظرکو سننے کے روادار نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں