تیونس کے سیاحتی شہر میں خودکش بمبار کا ہوٹل پر حملہ

پہلی مرتبہ معاشی اہمیت کے اہداف کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

تیونس میں سیاحتی اہمیت کے حامل شہر سوسہ میں ایک نوجوان نے خود کو ایک مقامی ہوٹل کے باہر دھماکے سے اڑا لیا۔ سوسہ سے نشریات پیش کرنے والے 'جوہرہ ایم ریڈیو' کے مطابق خودکش بمبار نے بارود سے بھری جیکٹ پہن رکھی تھی اور اس نے بدھ کے روز خود کو 'ریاض النخیل' نامی ہوٹل کے سامنے اڑایا۔اس حملے میں خودکش بمبار کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

بدھ کے روز ہونے والی دہشت گردی کی کارروائی تیونس میں اپنی نوعیت کی پہلی مثال ہے کہ جس میں ملک کے اندر ان شعبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے کہ جو تیونس کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ سیاحت کا شعبہ تیونس کی اقتصادی ترقی میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

سوسہ شہر میں سن انیس سو چھیاسی میں بھی ہوٹل دھماکے ہوئے تھے، اس وقت ان دھماکوں کی ذمہ داری تحریک اتجاہ اسلامی پرعائد کی گئی تھی۔ یہی جماعت اب تحریک نہضہ کی صورت میں ملک پر حکومت پر کر رہی ہے۔ تین برس قبل تیونس کے مطلق العنان سابق حکمران زین العابدین بن علی کا اقتدار ختم ہونے کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کسی ہوٹل کو دہشت گردی کی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں