ایبی میں غیرسرکاری ریفرینڈم میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی جاری

افریقی یونین کا غیرسرکاری ریفرینڈم کے نتیجے میں علاقے میں کشیدگی پھیلنے پر انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوڈان کے شورش زدہ خودمختار علاقے ایبی کی جنوبی یا شمالی سوڈان میں سے کسی ایک میں شمولیت کے لیے غیرسرکاری ریفرینڈم میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی جاری ہے جبکہ افریقی یونین نے پولنگ کو امن کے لیے ایک خطرہ قراردیا ہے۔

ایبی میں کل رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 65 ہزار ہے اور انھوں نے اتوار سے منگل کی شام تک تین روز میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔اس متنازعہ علاقے میں موجود ایک آزاد مبصر نے بتایا ہے کہ ووٹوں کی گنتی کا عمل سست روی مگر شفاف طریقے سے جاری ہے۔ابتدائی نتائج بدھ کی رات یا جمعرات کو متوقع ہیں۔

ایبی کی جنوبی یا شمالی سوڈان میں سے کسی کے ساتھ شمولیت کے لیے غیرملکی مبصرین کی نگرانی میں غیر سرکاری طور پر یہ ریفرینڈم منعقد کیا گیا ہے۔افریقی یونین کی سربراہ نکوسازانا ڈلمینی زوما نے اس ریفرینڈم کو غیر قانونی قراردیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے منتظمین جوبا اور خرطوم کے درمیان خانہ جنگی کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ''انھوں نے (منتظمین نے) ایبی میں امن کو خطرے سے دوچار کردیا ہے۔ان کے اقدام سے برسرزمین تشدد کو مہمیز مل سکتی ہے اور اس کے پورے خطے کے لیے تباہ کن مضمرات ہوسکتے ہیں''۔

ایبی میں اس وقت ایتھوپیا کی قیادت میں افریقی یونین کے کم سے کم چار ہزار امن فوجی تعینات ہیں۔اس علاقے میں نجوک ڈنکا قبیلہ آباد ہے اور اس کے جنوبی سوڈان سے قریبی تعلقات ہیں۔اس کے علاوہ نیم خانہ بدوش عرب قبیلہ مصریہ آباد ہے۔اس قبیلہ کے لوگ سوڈان سے ایبی آتے جاتے رہتے ہیں۔

غیرسرکاری ریفرینڈم کے منتظمین بالاصرار یہ کہتے رہے ہیں کہ اس میں سب کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا حق حاصل تھا لیکن صرف نجوک ڈنکا قبیلے سے تعلق رکھنے والے رجسٹرڈ ووٹروں نے ہی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے جبکہ مصریہ قبیلے نے پہلے ہی اس ریفرینڈم کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس کے نتائج کو تسلیم نہیں کرے گا۔

تیل کی دولت سے مالا مال ایبی کا علاقہ جنوبی اورشمالی سوڈان کے درمیان سرحد پرواقع ہے اوروہاں بھی جنوبی سوڈان کی طرح 9جنوری 2011ء کواستصواب رائے کاانقعاد ہونا تھا۔اس میں وہاں کے باشندوں نے اس کے سوڈان کا بدستورحصہ رہنے یا جنوبی سوڈان میں سے کسی ایک کے ساتھ ملنے کا فیصلہ کرنا تھا مگر ایبی میں حالات سازگار نہ ہونے کی وجہ سے وہاں ریفرینڈم کا انعقاد نہیں ہوا تھا اور پھر یہ بوجوہ تاخیر کا شکار ہوتا رہا ہے۔

جنوبی اورشمالی سوڈان کےدرمیان 2005ء میں ایک امن معاہدہ طے پایاتھا جس کے نتیجے میں شمالی اورجنوبی سوڈان کے درمیان دوعشرے تک جاری رہی خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا تھا۔اس معاہدے کے تحت ہی جنوبی سوڈان جنوری 2011ء میں منعقدہ ریفرینڈم کے نتیجے میں دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ملک کے طور پر نمودار ہوا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں