مریخ کی سیر میں شمولیت شرعی طور پر جائز نہیں: سعودی عالم دین

خلائی سفر کے لیے چھ سعودیوں سمیت ایک لاکھ مہم جو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ایک ممتازعالم دین اور سپریم علماء کونسل کے رُکن الشیخ علی الحکمی نے کہا ہے کہ مریخ سیارے کے آزمائشی سفر میں شمولیت خود کو دانستہ ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے، اس لیے شریعت میں ایسے سفر کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

خیال رہے کہ مریخ کی سیر کے لیے پوری دنیا سے ایک لاکھ افراد کو منتخب کیا گیا ہے۔ ان میں سعودی عرب کے چھ باشندے بھی شامل ہیں۔ یہ تجرباتی سفر سات ماہ پرمحیط ہو گا۔

لندن سے شائع ہونے والے اخبار"الحیاۃ" نے سعودی عالم دین علامہ الحکمی کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ "مریخ چونکہ بہت ہی دور واقع ہے اور سات ماہ کے خلائی سفر میں جانی نقصان کا غالب امکان ہے۔ قرآن کا حکم ہے کہ "خود کو اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں نہ ڈالو"۔ اس لیے میں سعودی شہریوں سے کہوں گا کہ وہ اس سفر سے باز رہیں کیونکہ اس آزمائشی سفر میں شمولیت خود کو موت کے منہ میں لے جانے کے مترادف ہے۔ ایسا کرنا شرعا درست نہیں ہے کیونکہ انسانی جان اس کی ملکیت نہیں بلکہ اللہ کی امانت ہے"۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سفر کے لیے پہلے حیوانوں پر تجربہ کرنا ضروری ہے۔ جب وہ کامیاب ہو جائے تو اس کے بعد انسانی سفرمیں مضائقہ نہیں ہے۔

یہ امر حیران کن ہے کہ مریخ کا یہ آزمائشی اور طویل دورانیے پر محیط ٹرپ نہایت سستا اورآسان شرائط پر مبنی ہے۔ چالیس سال سے کم عمرکا کوئی بھی شخص محض اڑتیس ڈالر ادا کر کے اس سفر میں شمولیت اختیار کرسکتا ہے۔ سفر کے متمنی افراد کو پیشہ ور خلاباز تربیت فراہم کر رہے ہیں۔ سعودی عرب سے مجموعی طور پر 477 افراد نے درخواست دی تھی جن میں سے صرف چھ کو منتخب کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مریخ کے آزمائشی سفر کے مہم جوؤں کی روانگی اور مریخ پر اترنے کے مناظر بھی جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے دکھائے جائیں گے۔ مریخ کے مسافر سیارے پر پہنچنے کے بعد وہاں سے "اسکائپ" کے ذریعے زمین پر رابطہ بھی کر سکیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں