مُرسی دور حکومت میں مصر کی ایک چوتھائی آبادی غربت کا شکار ہوئی

سترہ فی صد آبادی کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کے معزول مرد آہن حسنی مبارک کے خلاف جنوری 2011ء میں برپا ہونے والے عوامی انقلاب کے بعد ملکی معیشت مسلسل تباہی کی طرف گامزن ہے۔ ما بعد اانقلاب سنہ 13۔ 2012ء کے وسط میں اخوان المسلمون کی حکومت کے قیام کے بعد معاشی حالات کی بہتری کی توقع کی جا رہی تھی۔ جب تک ڈاکٹر محمد مرسی اوران کی جماعت اخوان المسلمون برسراقتدارتھی، معاشی میدان میں"سب اچھا ہے" کی رپورٹ تھی مگر جولائی میں عوامی دباؤ اور فوجی بغاوت کے نتیجے میں محمد مرسی کی معزولی کے بعد حقائق سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق سنہ دو ہزار بارہ اور دو ہزار تیرہ کے وسط میں محمد مرسی کے عرصہ اقتدار میں ایک چوتھائی مصری عوام غربت کا شکار ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 13.7 فی صد یعنی مجموعی آبادی کا سترہ فی صد ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جودو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہیں۔

سعودی عرب کے ریسرچ انسٹیٹیوٹ کریڈٹ سوئس کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2012-13ء کی وسطی مدت میں مصر میں فی کنبہ دولت میں 12 فی صد کمی ہوئی جس کے بعد مجموعی طو پر مصری خاندانی دولت 4516 آسٹریلوی پاؤنڈ رہ گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مطلق العنان صدر حسنی مبارک کی معزولی کے بعد اب تک مصر میں 30 فی صد غربت میں اضافہ ہوا ہے۔

برطانوی اخبار"ٹائمز" کی تازہ رپورٹ کے مطابق مصر میں قومی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ سیاحت ہے۔ اگست کے مہینے میں فوج نے سیاسی کشیدگی پر قابو پانے کے لیے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی تو سیاحت کا شعبہ ٹھپ ہوگیا۔ ملک میں موجود بیرونی سرمایہ کار بھاگ گئے اور بیرون ملک سے ملنے والے زرمبادلہ میں غیرمعمولی کمی آ گئی، جس نے غربت، بے روزگاری اور مہنگائی میں مزید اضافہ کیا ہے۔

عالمی ادارہ خوراک کی رپورٹ کے مطابق مصرمیں ایک چوتھائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پرمجبور ہے۔ ان میں سترہ فیصد آبادی ایسی بھی ہے جنہیں دو وقت کی روٹی بھی میسرنہیں ہوتی اور وہ اپنی بنیادی ضرورت کی اشیاء کی خریداری کی سکت نہیں رکھتے ہیں۔

"کریڈٹ سوئس" کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2000ء کےبعد مصرمیں مجموعی قومی قرضوں میں 31 فی صد اضافہ ہوا۔ رواں سال اس شرح میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی معاشی بحران کی اصل وجہ ہے۔ جب تک سیاسی میدان میں استحکام نہیں آ جاتا تب تک ملکی معیشت یوں ہی ابتری کا شکار رہے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں