پاکستان ملا برادر تک کرزئی حکومت کو رسائی دینے پر تیار

فیصلہ نواز شریف، ڈیوڈ کیمروں حامد کرزئی کی ملاقاتوں میں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان نے لندن میں وزیر اعظم نواز شریف کی ڈیوڈ کیمرون اور حامد کرزئی کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں کرزئی حکومت کو ملا عبدالغنی برادر تک رسائی دینا قبول کر لیا ہے۔ اس اتفاق کے بعد افغانی مذاکرات کاروں کا وفد جلد پاکستان کا دورہ کرے گی۔

اس سے پہلے افغان حکومت کا مطالبہ تھا کے طالبان رہنما ملا برادر کو اس کے حوالے کیا جائے، تاہم پاکستان اس پر آمادہ نہ تھا۔ اسی وجہ سے پاکستان نے ملا برادر کو ماہ ستمبر میں رہا کرنے کے باوجود پاکستانی اداروں کی ہی نگرانی میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اب لندن میں ڈیوڈ کیمرون کے توسط سے ہونے والی تازہ ملاقاتوں میں جزوی طور پر میاں نواز شریف نے یہ مطالبہ مان لیا ہے۔

افغان صدر حامد کرزئِی کی طرف سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق پاکستان نے اس پر اتفاق منگل کے روز کیا ہے۔ یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ افغانستان کا اعلی امن کونسل کا نمائندہ وفد جلد پاکستان جا کر طالبان رہنما ملا برادر سے ملے گا۔

پاکستان 1996 سے 2001 میں افغانستان میں طلبان حکومت کا حامی رہا ہے اس لیے 2014 میں امریکی اور نیٹو فورسز کی واپسی کے بعد افغانستان کے امن میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

لندن میں موجود افغان حکومت کے ذمہ دار یہ سمجھتے ہیں کہ ملا برادر طالبان قیادت کو امن مذاکرات پر قائل کر سکتے ہیں، تاہم اس کیلیے ضروری ہے کہ پاکستان ملا برادر کو رہا کرے۔

پاکستان نے افغان حکومت کو ملاقات کے اس دعوے کو غلط ثابت کرتے ہوئَے افغان وفد کو ملاقات کرنے کی اجازت دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں