آیت اللہ خامنہ ای کی عوامی حلقوں سے مسلسل دوری افواہوں کی زد میں

سپریم لیڈر کی صحت اور مستقبل بارے مختلف قیاس آرائیاں زور پکڑنے لگیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایران کے سپریم لیڈر اور رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای "یوم غدیر" کی تقریبات میں عدم شرکت کے بعد سے مسلسل عوامی حلقوں سے دوری ان کے مستقبل کے بارے میں کئی قسم کے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔"عید غدیر" جو اہل تشیع کے ہاں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے بعد تیسرا بڑا مذہبی تہوار سمجھا جاتا ہے کی تقریبات میں خامنہ ای کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔ وہ خود کہیں دکھائی دیے اور نہ ہی اس خاص موقع پر ان کا کوئی بیان سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی وہ منظر سے 'غائب' رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایسے اہم مذہبی تہواروں کے موقع پر مرشداعلیٰ کے خطابات کا خاص طور پر اہتمام کیا جاتا ہے۔ تقریبات میں ان کی عدم شرکت سے ان کی صحت اور تہران میں اسلامی جمہوری نظام کے مستقبل بارے کئی قسم کے سوالات، افواہیں اور قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔

ایرانی میڈیا اورسیاسی حلقوں میں بھی مرشد اعلیٰ کی عوامی حلقوں میں غیرحاضری گفتگو کا ایک اہم موضوع بن چکا ہے۔ فارسی نیوز ویب پورٹل"خود نویس" نے تہران کے ایک سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ مرشد اعلیٰ کی رپوشی تہران سرکارکے اندرونی حلقوں میں بھی زیربحث ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ افواہوں کے جلوں میں مرشد اعلیٰ کے فرزند مجبتیٰ خامنہ ای کا دفعتہً منظرعام پرآنا بھی کئی قسم کے سوالوں کوجنم دیتا ہے۔

خیال رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ آخری مرتبہ سات اکتوبرکو تہران میں اپنی رہائش گاہ پرہونے والی ایک تقریب میں دکھائی دیے تھے۔ اس کے بعد سے وہ مسلسل عوامی تقریبات سے غیر حاضر چلے آ رہے ہیں۔

ایران سے باہر بھی خامنہ ای کی غیر حاضری پر ابلاغی حلقوں میں بحث چل رہی ہے۔ اسرائیل کی ایک عبرانی نیوز ویب سائیٹ "ڈیبکا فائل" کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای نے جب سے سپریم لیڈر کا منصب سنھبالا وہ ہر سال عیدالاضحیٰ کے موقع پرایرانی حجاج کرام کے لیے خصوصی خطاب کیا کرتے تھے۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ خامنہ ای عید کے موقع پر دکھائی نہیں دیے ہیں اورنہ ہی ان کی جانب سے کوئی پیغام سامنے آیا ہے۔ اس کیفیت نے کئی قسم کے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

تاہم مرشد اعلیٰ کے بعض مقرب حلقوں کا ایک خیال یہ ہے کہ خامنہ ای نے دانستہ "چُپ" سادھ رکھی ہے۔ وہ تہران کے جوہری پروگرام سے متعلق ہونے والی تازہ پسپائی پرخود ہی کوئی بیان نہیں دینا چاہتے۔ جوہری پروگرام سے متعلق حکومت کے موقف میں جوبھی تبدیلی آئی ہے وہ خامنہ کی مرضی ہی سے آئی ہے ورگرنہ ماضی میں کوئی بھی صدر خامنہ کی کھینچی گئی لکیر سے ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتا تھا۔

یہاں یہ امربھی قابل ذکر رہے کہ گذشتہ ماہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایرانی صدرحسن روحانی اور باراک اوباما کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو پر خامنہ ای نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے 'بے محل' قرار دیا تھا۔ اس ٹیلیفونک بات چیت پر ایران کی قدامت پسند قیادت، اراکین شوریٰ اور پاسداران انقلاب کی جانب سے بھی صدرروحانی اور وزیرخارجہ جواد ظریف کو تنقید کا سامنا کرنا پڑاتھا۔

ایران کے بعض ابلاغی حلقوں نے مغربی ذرائع ابلاغ کے حوالوں سے یہ اطلاع بھی دی ہے کہ 74 سالہ آیت اللہ علی خامنہ کی طبیعت نا ساز ہے۔ سابق صدر علی اکبرہاشمی رفسنجانی کے مقرب ذرائع کے مطابق خامنہ کی روپوشی کی وجہ ان کی خرابی صحت ہے۔ وہ اتنے زیادہ علیل ہیں کہ عید جیسے اہم مذہبی مواقع پربھی کوئی پیغام دینے سےقاصر ہیں۔

حال ہی میں وکی لیکس نے بھی ایک خفیہ سفارتی مراسلے کا حوالہ دیتے ہوئے خامنہ ای کی خرابی صحت کا تذکرہ کیا ہے۔ وکی لیکس کے مطابق ایک امریکی سفارت خانے تک یہ اطلاع سابق صدر رفسنجانی کے ایک قریبی تاجر نے پہنچائی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کل بدھ کے روز ایران کے ایک فوجی چھاؤنی میں مذہبی رہ نما حسین رستمی نے اپنے ساتھیوں سے خامنہ ای کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اپیل کی تھی۔ حسین رستمی کے بہ قول" ہمارے بزرگ [مرشداعلیٰ] کی صحت کے بارے میں ہمیں کوئی اچھی خبرنہیں مل رہی۔ انہوں نے "یوم غدیر" پرقوم کے نام کوئی پیغام بھی نہیں دیا۔ میں آپ سب لوگوں سے ان کی صحت یابی کے لیے دعاؤں کا خواستگار ہوں"۔

کچھ حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ صدر حسن روحانی اور سپریم لیڈرکے درمیان خارجہ اور دفاع کی پالیسیوں بارے اختلافات پائے جارہے ہیں۔ خامنہ ایسے موقع پر خود کو عوامی اور ابلاغی حلقوں سے دور ہی رکھنا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں