ایران: تاریخ ساز حکومتی کرپشن اسکینڈل، 10 اراکین شوریٰ عدالت طلب

"ملی" بنک کا چیئرمین کینیڈا فرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کی ایک عدالت نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے حکومتی کرپشن اسکینڈل میں ملوث 10اراکین پارلیمنٹ کو وضاحت کے لیے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ ان دس اراکین شوریٰ میں سے تین براہ راست اس اسکینڈل میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔

ایران کے فارسی اخبار"شرق" کی رپورٹ کے مطابق یہ میگا کرپشن اسکینڈل سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دورصدارت میں سامنے آیا تھا لیکن بوجوہ اس پر پردہ ڈالا گیا۔ گذشتہ برس کے آخر میں ذرائع ابلاغ کے ذریعے یہ اسکینڈل ایک مرتبہ پرعوامی اور عدالتی توجہ کا مرکز بنا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بدعنوانی کے اس تاریخی اسکینڈل میں تین ارب ڈالر کی رقم خورد برد کی گئی تھی۔ کرپشن میں حکومت کے دسیوں اہلکاروں سمیت کئی اراکین شوریٰ بھی ملوث ہیں۔

ایران کے ایک رکن شوریٰ جواد کریمی نے اخبار"شرق"کو بتایا کہ تہران کی ایک عدالت نے ان کے دس ساتھیوں کو پیشی کا حکم دیا ہے۔ ان میں سے تین ارکان شوریٰ براہ راست اس کرپشن میں ملوث ہیں۔

حالیہ کچھ عرصے سے ایرانی حکومت کے عہدیداروں کی کرپشن کہانیاں کثرت سے سامنے آ رہی ہیں۔ ان میں حکومت سمیت ایرانی اشرافیہ کی سرکردہ شخصیات بھی شامل ہیں۔ تین ارب ڈالر کی کرپشن کے اسکینڈل میں "ملی" بنک کے چیئرمین محمد رضا خاوری کا نام بھی آتا ہے۔ جب یہ اسکینڈل منظرعام پر آیا تو مسٹر خاوری کینیڈا فرار ہو گیا تھا۔

اسکینڈل کا مرکزی ملزم امیر منصور اریا بتایا جاتا ہے۔ مسٹر منصور سابق صدراحمدی نژاد کا مقرب خاص رہا ہے اوراس نے اپنے سیاسی اثرو نفوذ کو استعمال کرتے ہوئے سرکاری بنکوں سے بڑی مقدارمیں رقوم حاصل کی تھیں۔

حکومتی کرپشن کا اسکینڈل منظرعام پرآنے کے بعد پولیس نے مختلف بنکوں سے تعلق رکھنے والے دسیوں عہدہداروں کو حراست میں بھی لیا ہے۔ مرکزی ملزم امیرمنصور اریا کے ایک معان کو پھانسی کی سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔ تاہم رکن شوریٰ جواد کریمی کے بہ قول کرپشن اسکینڈ کیس کی سماعت کرنے والی عدالت پر اعلٰی حکام کی جانب سے سخت دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے مقدمہ کے فیصلے میں تاخیرکی بنیادی وجہ سیاسی دباؤ ہے ورنہ ایرانی عوام ملزموں کوجلد ازجلد بے نقاب کرکے کیفر کردار تک پہنچتا دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کی جوڈیشل کمیٹی کی جانب سے اراکین کے خلاف کرپشن اسکینڈل کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقدمہ کی کارروائی کے باوجود اراکین شوریٰ کی رکنیت ختم نہیں کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں