مراکش کا سفیر واپس بلانے کا فیصلہ بلاجواز ہے:الجزائر

احتجاج اوراختلافات کے باوجود رباط سے الجزائری سفیر واپس نہ بلانے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

الجزائر نے پڑوسی ملک مراکش کی جانب سے اپنا سفیر واپس بلانے کے فیصلے کو غیرمنصفانہ قراردیا ہے۔

مراکش نے الجزائری صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے دونوں ممالک کے درمیان متنازعہ علاقے مغربی صحارا کے بارے میں حالیہ ریمارکس کے بعد الجزائر سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔مراکش نے اس علاقے کو ؁ 1975ء میں ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری نے اس کے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔

الجزائری وزارت خارجہ نے جمعرات کو مراکش کے اقدام کے ردعمل میں ایک بیان میں کہا ہے کہ ''یہ ایک غیر منصفانہ اور بلاجواز فیصلہ ہے۔یہ بے بنیاد اور غلط محرکات پرمبنی ہے اور اس کا مقصد الجزائر کی خودمختاری کو متاثر کرنا ہے''۔

الجزائر نے مراکش کی جانب سے سفیر واپس بلانے کے فیصلے پر تو احتجاج کیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ وہ رباط سے اپنے سفیر کو واپس نہیں بلائے گا۔الجزائری وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان ''بدقسمت'' تنازعہ بہت جلد طے پاجائے گا۔

مراکش نے گذشتہ روز کہا تھا کہ اس نے مملکت کے خلاف الجزائر کے مخالفانہ اشتعال انگیز اقدامات اور خاص طور پر مراکشی صحارا کے حوالے سے علاقائی اختلافات کو ابھارنے کے بعد اپنا سفیر واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

مراکش نے الجزائری صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی ابوجا میں گذشتہ سوموار کو ایک اجلاس کے دوران تقریر کا حوالہ دیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ مغربی صحارا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو مانیٹر کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی میکانزم وضع کرنے کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

انھوں نے اس تقریر میں مقبوضہ علاقوں میں انسانی حقوق کی منظم انداز میں بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کا حوالہ دیا جن کا ان کے بہ قول صحاروی عوام کی اظہاررائے کی آزادی اور تنظیم کے لیے پرامن جدوجہد کو دبانے کی غرض سے ارتکاب کیا جارہا ہے۔

رباط میں مراکش کے وزیرمواصلات نے مصطفیٰ خلفی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''صدربوتفلیقہ ''غیر جانبداری'' کی اپنی تمام حس کو کھو بیٹھے ہیں اور وہ مراکش کو ایک قابض ملک قرار دے رہے ہیں''۔

دونوں ممالک کے درمیان یہ نئی پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عالمی ادارے کے خصوصی ایلچی کرسٹوفر راس صحارا کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کرنے والے ہیں۔انھوں اس منجمد تنازعے کے پرامن حل کے لیے نئی کوشش کے طور پر اسی ماہ علاقے کا دورہ کیا تھا۔

مراکش نے فاسفیٹ کی دولت سے مالا مال اس علاقے کو اپنے تحت زیادہ خودمختاری دینے کی تجویز پیش کی ہے لیکن اس کو آزادی پسند پولیساریو فرنٹ نے مسترد کردیا ہے۔اس تنظیم کے ہیڈکوارٹرز الجزائرکے مغربی شہر تندوف میں قائم ہیں۔اس کے جنگجو ؁ 1975 ء کے بعد کوئی ڈیڑھ عشرے تک مراکشی فوج سے آزادی کے لیے لڑتے رہے ہیں۔ان کے درمیان ؁ 1991ء میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی ہوئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں