نورالمالکی کا ایجنڈا فرقہ واریت اور آمریت پر مبنی ہے: امریکی سینیٹرز

عراقی وزیر اعظم کی پالیسیوں کے باعث سنی القاعدہ کی طرف جا رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی سینیٹرز نے مشترکہ طور صدر اوباما کی توجہ عراق امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورت حال کی طرف مبذول کراتے ہوئے عراقی وزیر اعظم نورالمالکی پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ ملک میں فرقہ واریت کو فروغ دے رہے ہیں۔

چار ری پبلکن اور دوڈیموکریٹ سنینٹرز نے یہ مشترکہ خط صدر اوباما کو ایسے وقت میں لکھا ہے جب اربوں ڈالر کا اسلحہ خریدنے میں دلچسپی رکھنے والے عراقی وزیر اعظم امریکی دورے پر ہیں۔

امریکی سینیٹرز نے موقف اختیار کیا ہے کہ نورالمالکی کی سیاسی پالیسیوں کی وجہ سے بدامنی کی موجودہ صورتحال پیدا ہوئِی ہے۔ جس کی نذر صرف رواں سال کے دوران 7000 افراد ہو چکے ہیں جبکہ عراق میں امن وامان کی صورتحال دگرگوں ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ '' نورالمالکی فرقہ واریت اور آمریت پر مبنی ایجنڈا رکھتے ہیں، اس وجہ سے عراقی سنی عراق کے معاملات سے دور ہو رہے ہیں، کردوں کا کردار کم ہوتا جا رہا ہے اور ایسے شیعہ جو جمہوری سوچ کے حامی ہیں وہ بھی الگ تھلگ اور ناراض ہیں۔'' اس لیے ضروری ہے کہ عراق میں دہشت گردی سے نمٹنے کیلیے معاونت بڑھائی جائے اور وزیر اعظم سے کہا جائے کہ وہ سنی عراقیوں سے معاملات بہتر کریں۔

صدر اوباما کو خط لکھنے والوں میں ریپبلکن سینیٹر جان مکین، جیمز انہوف، باب کروکر اور لنڈسے گراہم شامل ہیں جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹرز کارل لیون اور رابرٹ میننڈز کے نام شامل ہیں۔

امریکی سینیٹرز نے خبردار کیا ہے کہ سنی مالکی کی پالیسیوں کی وجہ سے القاعدہ اور اس کے اسلحہ کی طرف مائل ہو رہے ہیں، جس سے تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر اس کا نوٹس نہ لیا گیا تو عراق مکمل طور پر خانہ جنگی کے حوالے ہو سکتا ہے۔

دریں اثنا نورالماکی نے نیویارک ٹائم میں لکھے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ میں جمعہ کے روز صدر اوباما سے مل کر امریکا اور عراق کے درمیان سکیورٹی کا ایسا منصوبہ پیش کرنے والا ہوں، جس کا مقصد دہشت گردی سے مل کر نمٹنا ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں