چودہ برس بعد ترک خواتین پارلیمنٹرینز کی حجاب پہن کر اجلاس میں شرکت

99' میں حجاب کر کے آنے والی خاتون رکن کو ایوان میں روکا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کے وضع کردہ سخت گیر سیکولر اصولوں کے برعکس ملک کی منتخب پارلیمنٹ پر دہیرے دہیرے اسلامی رنگ چھانے لگا ہے۔

چودہ سال پیشتر سنہ 1999ء میں ایک مُحجب رکن پارلیمنٹ کو ایوان سے محض اس لیے نکال دیا گیا تھا کہ اس نے سر پر اسکارف اوڑھ رکھا تھا۔ آج چودہ سال بعد وہی پارلیمنٹ ہے جس میں ایک یا دو نہیں بلکہ تین باحجاب اراکین پوری آزادی کے ساتھ شرکت کر رہی ہیں۔ ان تینوں محجب خواتین ارکان کا تعلق اعتدال پسند مذہبی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی سے ہے۔ تینوں 2011ء کے پارلیمانی انتخابات میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی ٹکٹ پر منتخب ہوکر ایوان میں پہنچیں۔

العربیہ ڈآٹ نیٹ کے مطابق ترکی میں جہاں کمال اتا ترک کے سیکولرزم کے علمبرداروں کی بڑی تعداد موجود ہے وہیں اسلام پسندوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترک معاشرے میں بھی اب اسلام کی طرف رحجان بڑھتا محسوس ہوتا ہے۔ وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت نے عوام کی مزید سہولت کے لیے پبلک مقامات پر حجاب اوڑھنے پر پابندی کا قانون منسوخ کردیا تھا، جس کے بعد خواتین کو پبلک مقامات میں حجاب اختیار کرنے کی آزادی ہوگی۔

جمعرات کے روز تین خواتین ارکان نےاتا ترک کے سیکولر ازم کو کھلے عام چیلنج کرتے ہوئے ایوان کے اجلاس میں شرکت کی۔اس سے قبل سنہ ۱۹۹۹ء میں اسکارف اوڑھ کر پارلیمنٹ میں آنےوالی رکن کوایوان سے نکال دیا گیا تھا۔

ایک محجب رکن پارلیمان نورجان ڈالبوڈک نے کہا کہ "ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ ہمارے اسکارف پہننے پرایوان کا ردعمل کیا ہوگا؟ لیکن ہم نے حجاب کے ساتھ اجلاس میں شرکت اپنا معمول بنانے کا تہیہ بھی کر رکھا ہے"۔

ترکی میں سیکولر طبقات خواتین کے حجاب کو سیاسی اسلام کی ایک علامت کے طورپر دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک جدید ترکی میں اسکارف پہن کرپبلک مقامات پر گھومنا مصطفیٰ کمال اتا ترک کی سیکولرجمہوریت کوچیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ گوکہ ترکی کی موجودہ پارلیمنٹ میں حجاب کے حوالے سے کوئی مخصوص قیود نہیں ہیں لیکن ریاست کے بعض دوسرے اداروں میں پابندی کے باعث حجاب کی متمنی خواتین کو مشکل کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔

ترکی میں اپوزیشن کی سب سے بڑی سیکولر ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی اب بھی کمال اتا ترک کے نقش قدم پر چلنے کا تہیہ کیے ہوئے اورحجاب جیسے مشغلے کو مسترد کرتی ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ڈیلیک اکانجو نے کہا کہ "پارلیمان کے تمام ارکان اس بات پرمتفق ہیں کہ حکمراں جسٹس پارٹی مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ہم اس پرخاموش نہیں رہیں گے کیونکہ مذہب کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال سیکولرزم کے اصولوں کے لیے قینچی ثابت ہو رہا ہے"۔

اپوزیشن رہ نما نے مزید کہا کہ "سنہ 1999ء میں فضیلت پارٹی کی رکن مروہ قاؤقجی سیکولر ازم کے اصولوں کو پامال کرتے ہوئے سر پر دوپٹہ لے کر حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوئی تھی۔ جس طرح ہم نے اس کی انتشار پسندی کو برداشت نہیں کیا اور اسے ایوان سے نکال باہر کیا تھا، اسی طرح ہم آئندہ بھی کریں گے۔

یاد رہے کہ اس وقت کے ترک وزیر اعظم بلند اجوت نے مروہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ "یہ ریاست کو چیلنج کرنے کی جگہ نہیں ہے۔ اس خاتون کو اپنی حدود کا ادراک کرنا ہوگا"۔ اس کے ساتھ ہی ایوان کے نصف سے زیادہ ارکان کھڑے ہو گئے اور انہوں نے مروہ کو ایوان سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایوان کے دباؤ پر مروہ قاؤقجی حلف اٹھائے بغیر اجلاس سے نکل گئیں۔ بعد ازاں امریکی شہریت رکھنے کی پاداش میں حکومت نے اس کی تُرک شہریت بھی ختم کردی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں