یو این کے داخلی مواصلاتی نظام کی جاسوسی کی، نہ کریں گے: امریکا

"این ایس اے نے یاہو اور گوگل کے سرورز کی نگرانی نہیں کی"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اسے امریکی حکام کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ امریکی انٹیلیجنس ایجنسی اقوامِ متحدہ کے اندرونی کمیونیکیشن کی جاسوسی نہیں کر رہی اور نہ ہی مستقبل میں اس کا ایسا کوئی ارادہ ہے۔ تاہم اس بارے میں امریکی حکام کی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان مارٹن نیسریکی نے اس بارے میں بات کرنے سے انکار کیا کہ آیا ماضی میں امریکا کی جانب سے ادارے کی جاسوسی کی گئی یا نہیں۔

عالمی ادارے کا یہ بیان جرمنی کے ایک اخبار کی اس رپورٹ کے بعد آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے نیشنل سکیورٹی کے ادارے نے اقوامِ متحدہ کی اندرونی کمیونیکیشن کی جاسوسی کے دوران حاصل بعض خفیہ کوڈز بھی حاصل کیے تھے۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے اس بارے میں بھی خیالات کا اظہار کرنے سے منع کر دیا کہ آیا اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی بھی جاسوسی کی گئی یا نہیں۔

ادھر امریکا کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے اس الزام سے انکار کیا ہے اس نے یاہو اور گوگل کے ڈیٹا سینٹرز کے رابطوں کی خفیہ طور پر نگرانی کی ہے۔

اس سے پہلے امریکی جاسوسی کے راز افشاء کرنے والے ایڈورڈ سنوڈن کے حوالےسے انکشاف کیا گیا تھا کہ این ایس اے نے یاہو اور گوگل کے ڈیٹا سنٹر میں رابطے کے لنکس کو ہیک کیا۔

واشنگٹن پوسٹ میں شائع کی جانے والے دستاویزات کے مطابق انٹرنیٹ کے ان بڑے نیٹ ورکس پر سے روزانہ لاکھوں ریکارڈز اکٹھے کیے جاتے رہے۔

تاہم امریکی ادارے کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ کسی کمپنی کے کمپیوٹر سے رابطہ قائم نہیں کیا گیا۔

حالیہ انکشافات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب جرمنی کے انٹیلیجنس حکام کا ایک گروہ امریکا پہنچا ہے جہاں وہ وائٹ ہاؤس میں امریکی حکام سے وائس چانسلر انجیلا میرکل کے ٹیلی فون کی نگرانی کیے جانے کے الزامات کی بابت بات چیت کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں