''جنیوا مذاکرات میں بشارالاسد کی رخصتی پر تبادلہ خیال جائے گا''

شام کے لیے روس سے بھیجی گئی اسلحے کی شپمنٹ کو روک لیا گیا:امریکی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں متعین امریکی سفیر رابرٹ فورڈ نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا ہے کہ روس کے ساتھ صدر بشارالاسد کی رخصتی کے حوالے سے ایشو پر سمجھوتا طے پاگیا ہے اور مجوزہ جنیوا مذاکرات میں اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

انھوں نے جمعرات کو کمیٹی کے روبرو بیان دیتے ہوئے کہا کہ ''ہم بشارالاسد پر مذاکرات کی میز پرآنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔البتہ ہمیں روس کو یہ یقین دہانی کرانے کی ضرورت ہے کہ شامی صدر کی جگہ کون لے گا''۔

انھوں نے کہا کہ جنیوا امن مذاکرات کا نتیجہ شام میں سیاسی انتقال اقتدار کی صورت میں برآمد ہونا چاہیے کیونکہ وہاں جاری بدامنی پورے خطے کو متاثر کررہی ہے۔

امریکی سفیر نے کمیٹی کے ارکان کو بتایا کہ شامی حکومت کے لیے روسی اسلحے کی ایک شپ منٹ کو روکا گیا تھا۔انھوں نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کی تلفی کو ایک بڑی کامیابی قراردیا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر بشارالاسد کے مواخذے کے لیے اقدامات پرغور کیا جارہا ہے۔

رابرٹ فورڈ نے موقف تھا کہ ''شامی رجیم پر دباؤ ڈالنے کے لیے حزب اختلاف کی حمایت ہی کافی نہیں ہے اور جیش الحر کے ساتھ بھی کافی مربوط کوششیں نہیں کی جارہی ہیں۔ہمیں شامی حزب اختلاف کے ایک دوسرے کو قتل کرنے کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے''۔

اس موقع پر ری پبلکن سینیٹر جان مکین نے اوباما انتظامیہ کی جنیوا دوم امن بات چیت کے انعقاد میں دلچسپی کی تائید کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ بشارالاسد نے مسلسل قتل کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''شام میں جو کچھ ہورہا ہے،یہ کوئی خانہ جنگی نہیں بلکہ ایک علاقائی تنازعہ ہے۔

خارجہ تعلقات کمیٹی کے چئیرمین رابرٹ میننڈیز نے کہا کہ شام میں جاری بحران میں کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی ہی واحد مثبت پیش رفت ہے۔انھوں نے خانہ جنگی کا شکار ملک میں بدتر انسانی بحران پر افسوس کا اظہار کیا۔

انھوں نے اور کمیٹی کے اجلاس میں شریک دوسرے قانون سازوں نے رابرٹ فورڈ پر واضح کیا کہ ''انھیں اس بات کا کوئی یقین نہیں ہے کہ اوباما انتظامیہ نے شامی بحران کے حل کے لیے کوئی حکمت عملی وضع کی ہے''۔

کمیٹی کے چئیرمین نے کہا کہ ''اوباما کی شام میں پالیسیوں کی وجہ سے امریکیوں کو سُبکی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور شامی تنازعے سے نمٹنے کے لیے پالیسی کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں امریکا کی پوزیشن کمزور ہورہی ہے''۔انھوں نے صدر اوباما پر زوردیا کہ وہ شام میں انسانی کوریڈور کھولیں کیونکہ اس ملک کی ایک تہائی آبادی خانہ جنگی کے نتیجے میں دربدر ہوچکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں