غرب اردن:اسرائیلی فوج نے حماس کے تین سنئیر رہ نما گرفتار کرلیے

حماس نے اسرائیلی فوج کے اقدام کی مذمت کردی،امن مذاکرات کے دوران گرفتاری جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ سے چھاپہ مار کارروائی کے دوران غزہ کی پٹی کی حکمراں فلسطینی تنظیم حماس کے تین سنئیر ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔

فلسطین کے سکیورٹی ذرائع نے ان تینوں سنئیر رہ نماؤں کے نام جمال طویل ،حسین ابو کویک اور فراج رومانا بتائے ہیں۔اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے تین بے نامی فلسطینیوں کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے لیکن اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

اس ہفتے کے دوران اسرائیلی فوج نے دوسری مرتبہ حماس کے کارکنان کو گرفتار کیا ہے۔گذشتہ سوموار کو اسرائیلی فوجیوں نے غرب اردن کے شہروں طولکرم،نابلس اور الخلیل سے چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران حماس کے پندرہ ارکان کو گرفتار کر لیا تھا۔ان میں دو پارلیمان کے ارکان تھے۔تاہم اسرائیلی فوج نے ان میں سے صرف دس کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی۔

حماس نے ان گرفتاریوں کی مذمت کی ہے اور اس اقدام کو اسرائیل ،امریکا اور فلسطینی اتھارٹی کی ایک مشترکہ سازش قرار دیا ہے۔حماس امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امن مذاکرات کی مخالفت کررہی ہے۔

اسرائیل ایک جانب تو حماس کے کارکنان اور دوسرے فلسطینیوں کو گرفتار کررہا ہے اور دوسری جانب اس نے نئی گرفتاریوں سے ایک روز قبل ہی فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کے لیے طے شدہ ڈیل کے تحت طویل عرصے سے جیلوں میں قید چھبیس فلسطینیوں کو رہا کیا ہے۔

مذکورہ ڈیل کے تحت اسرائیل کل ایک سو چار فلسطینی قیدیوں کو جیلوں سے رہا کرے گا۔اسرائیلی حکومت کے اییک بیان کے مطابق یہ تمام فلسطینی قیدی انیس سال سے زیادہ کا عرصہ جیلوں میں گزار چکے ہیں۔ان تمام کو ؁ 1993ء میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کے آغاز سے قبل گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالا گیا تھا۔اب ایک مرتبہ پھر امن مذاکرات کے دوران ہی فلسطینیوں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں