.

امریکی ارکان کانگریس ایران پرنئی پابندیاں مؤخرکردیں: بائیڈن

ایران کے جوہری تنازعے کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کو موقع دیا جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نائب صدر جوبائیڈن کی قیادت میں اوباما انتظامیہ کے اعلیٰ سطح کے وفد نے کیپٹل ہل (واشنگٹن) میں کانگریس کے سرکردہ ارکان سے ملاقات کی ہے اور ان پر زوردیا ہے کہ وہ ایران پر نئِے مرحلوں کی پابندیوں کو موخر کردیں اوراس ضمن میں کسی فیصلے سے قبل سفارتی کوششوں کے نتائج کا انتظار کریں۔

جوبائیڈن کی قیادت میں وزیرخارجہ جان کیری اور وزیرخزانہ جیک لیو نے سینیٹ میں ڈیمو کریٹک ارکان اور سینیٹ کی بینکنگ کمیٹی کے ری پبلکن اور ڈیموکریٹک ارکان کے ساتھ بندکمرے میں اجلاس منعقد کیا ہے اور انھیں بڑی طاقتوں کے ساتھ ایران کی جوہری تنازعے پر حالیہ بات چیت میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں آگاہ کیا۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کا نیا دور 7نومبر کو جنیوا میں ہوگا۔وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایران سخت پابندیوں کے نتیجے میں مذاکرات پر مجبور ہوا ہے لیکن اب کانگریس کو اس کے خلاف نئی پابندیاں عاید کرنے میں وقفہ کرناچاہیے تاکہ مذاکرات کاروں کو ایران کے ساتھ لچک دار رویہ اپنانے کا موقع مل سکے۔

جوبائیڈن کے دفتر سے تعلق رکھنے والے ایک عہدے دار نے بتایا کہ اوباما انتظامیہ کا کانگریس کے لیے یہ پیغام تھا:''آیندہ شاید ایسا مقام آئے کہ جب ایران کے خلاف مزید پابندیوں کی ضرورت پڑے لیکن ابھی شاید کانگریس کے لیے اقدام کرنے کا مناسب وقت نہیں ہے''۔

تاہم کانگریس اوباما انتظامیہ کے مقابلے میں ایران کے بارے میں سخت موقف اختیار کرنے کا رجحان رکھتی ہے۔بہت سے ارکان کانگریس نے مذکورہ اجلاس کے بعد کہا کہ وہ قائل نہیں ہوئے ہیں اور ایران کو جوہری پروگرام سے دستبردارکرانے کے لیے نئی پابندیوں کی ضرورت ہے۔

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چئیرمین اور بینکنگ کمیٹی کے رکن رابرٹ میننڈیز نے کہا کہ ''میں ایران کے خلاف پابندیوں کی مزید تاخیر کے لیے کوئی وعدہ کرنے کو تیار نہیں ہوں''۔

ری پبلکن سینیٹر مارک کرک ایران کے خلاف پابندیوں کو ملتوی کرنے کی شدید مخالفت کررہے ہیں۔انھوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر بینکنگ کمیٹی ایران پرنئی پابندیاں عاید کرنے کے لیے رائے شماری میں تاخیر کرتی ہے تو وہ دفاع کے اجازت نامے کے بل میں ایران کے خلاف مزید پابندیاں شامل کرادیں گے۔یہ بل اسی ماہ پیش کیا جارہا ہے۔

اس بات کا بھی امکان ہے کہ امریکی سینیٹ کا پینل عین اس وقت ایران کے خلاف نئے پابندیوں کا بل تیار کردے جب جنیوا میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری تنازعے کے پرامن حل کے لیے مذاکرات ہورہے ہوں۔تاہم دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے بعض ارکان کانگریس کا کہنا ہے کہ اس وقت ایسا ممکن نہیں ہوگا۔