.

الجیرین قونصل خانے پر لگا پرچم مراکشی نوجوان نے پھاڑ ڈالا

کاسابلانکا واقعے کے بعد قائم مقام مراکشی سفیر کی الجزائر کے دفتر خارجہ میں طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش کے شہر کاسابلانکا میں الجزائر کے قونصل خانے کی عمارت پر لہرانے والا پرچم ایک مراکشی نوجوان نے پھاڑ ڈالا۔ واقعے کے بعد الجزائر نے مراکش کے قائم مقام سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے قومی پرچم کی توہین پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

مراکش کا قومی پرچم پھاڑنے کا واقعہ الجزائر کے صدر کی جانب سے متنازعہ مغربی صحارا کے بارے میں ایک بیان کے جلو میں ہونے والے احتجاجی پروگرام کے دوران پیش آیا۔

مراکش نے الجزائری صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے دونوں ممالک کے درمیان متنازعہ علاقے مغربی صحارا کے بارے میں حالیہ ریمارکس کے بعد الجزائر سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔ مراکش نے مغربی صحار کو1975ء میں ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری نے اس کے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔

مراکش کے اندر انٹرنیٹ پر مشتہر کی جانے والی ایک ویڈیو میں ایک نوجوان کو الجزائر کے قونصل خانے کی دیوار پر چڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس نے بعد میں چھت پر لگا الجیرین پرچم تار تار کر دیا۔

ایک پولیس افسر نے اے ایف پی کو بتایا کہ 'رائل یوتھ' نامی تنظیم کے ایک رکن کو واقعے کے بعد حراست میں لے لیا گیا ہے، جسے جلد ہی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

مراکش کے کاروباری صدر مقام کاسابلانکا میں سیکڑوں افراد نے الجزائر کے قونصل خانے کے باہر مغربی صحارا سے متعلق الجزائر کے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کے بیان کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ابوجہ میں ایک تقریر کے دوران عبدالعزیز بوتفلیقہ کی جانب سے پڑھے جانے والے پیغام میں انہوں نے کہا تھا کہ اب مغربی صحارا میں انسانی حقوق کی صورتحال مانیٹر کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔