.

النہضہ اور اپوزیشن تیونسی وزیر اعظم کے انتخاب میں ناکام

وزارت عظمیٰ کے لیے نئے نام شامل کیے جانے کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں حکمراں اسلام پسند جماعت "تحریک النہضہ" اور اپوزیشن کے درمیان نئے وزیراعظم کے نام پر اتفاق رائے کے لیے جاری مذاکرات بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوگئے ہیں، جس کے بعد مستعفی وزیراعظم علی العریض کو کچھ دنوں کے لیے کام جاری رکھنے کی مزید مہلت مل گئی ہے جبکہ فریقین کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے لیے نئے امیدواروں کے ناموں کا بھی امکان ہے۔

ہفتے کے روز تحریک النہضہ اور اپوزیشن کے نئے وزیراعظم کے نام پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے 36 گھنٹے طویل مذاکرات ایک بند کمرہ اجلاس میں ہوئے۔ النہضہ نے محمد المستیری اور اپوزیشن کی جانب سے محمد الناصر کے ناموں پر اصرار کے باعث مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکارہوئے۔

مخلوط مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے النہضہ کے رہنما عامر العریض نے کہا کہ "ہم وزیراعظم کے نام پر اتفاق میں نام ہوئے ہیں مگر بات چیت کاعمل جاری رہے گا، توقع ہے کہ ایک دو روز میں نئے وزیر اعظم کے نام پر اتفاق ہو جائے گا"۔

بعد ازاں اپوزیشن جماعت "پیپلز فرنٹ" کے رہنما حامد الھمامی نے مذاکرات کی ناکامی کا الزام النہضہ پرعائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک النہضہ کی قیادت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے تاکہ اقتدار ایک مرتبہ پھراسے دیا جا سکے۔ چھتیس گھنٹے پرمحیط بات چیت میں النہضہ کے اپنے امیدوار محمد المستیری کے نام اصرار کےباعث معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا ہے"۔

خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق النہضہ اور اپوزیشن کے درمیان اب تک کے پیش کردہ امیدواروں میں سے کسی کے نام پراتفاق نہ ہوسکا تو نئے ناموں کی شمولیت کا امکان بھی موجود ہے۔ اس سلسلے میں کسی غیرجانب دار شخصیت کا نام بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔ غیر جانبدار وزیراعظم کے نام پر اتفاق کے امکانات زیادہ ہیں، کیونکہ موجودہ حالات میں ایک غیر متنازعہ رہ نما ہی ملک کو سیاسی بحران سے نکالنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تیونس پارلیمنٹ میں اکثریت نشستیں رکھنے والی اسلام پسند تحریک النہضہ نئی مخلوط عبوری حکومت سے بھی بھرپور حصہ وصول کرنے کی خواہاں ہے جبکہ حزب اختلاف الہنضہ کا کردار محدود کرنا چاہتی ہے۔