.

ایرانی پاسداران انقلاب کا تجربہ کار کمانڈر شام میں ہلاک

دمشق کے نواح میں ''دہشت گردوں'' کے ساتھ لڑائی میں مارا گیا:رپورٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مسلح افواج پاسداران انقلاب کا ایک تجربے کار کمانڈر شام کے دارالحکومت دمشق کے نزدیک ایک محاذ پر شامی باغیوں کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہو گیا ہے۔

ایرانی میڈیا نے سوموار کو اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ پاسداران انقلاب کا کمانڈر جبر وتشدد کا شکار شامی عوام کا دفاع کرتے ہوئے ''دہشت گردوں'' کے ہاتھوں مارا گیا ہے۔مہر نیوز ایجنسی نے اس کمانڈر کا نام محمد جمالی باقلعة بتایا ہے۔

مقتول کمانڈر نے ایران اورعراق کے درمیان سن 1980ء کے عشرے میں لڑی گئی جنگ میں بھی حصہ لیا تھا اور اس کو حال ہی میں دمشق کے نواح میں اہل تشیع کے لیے مقدس ایک مزار کے تحفظ کے لیے بھیجا گیا تھا۔ ایسنا نیوز ایجنسی کے مطابق جمالی کی نماز جنازہ منگل کو ایران کے جنوبی شہر کرمان میں ادا کی جائے گی۔

جمالی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ پاسداران انقلاب کے اسی دستے سے تعلق رکھتے تھے جس نے ایران کے خصوصی دستوں پر مشتمل ایلیٹ القدس فورس کے موجودہ کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی عسکری تربیت کی تھی۔

واضح رہے کہ مغربی ممالک ،عرب حکومتیں اور شامی حزب اختلاف ایک عرصے سے القدس فورس پر صدربشارالاسد کی فوجی امداد کا الزام عاید کرتے چلے آرہے ہیں لیکن ایران کا کہنا ہے کہ وہ دمشق حکومت کی سراغرسانی کے شعبے میں مادی مدد تو ضرورکررہا ہے لیکن اس نے باغیوں کے خلاف لڑائی کے لیے برسرزمین اپنے دستے نہیں بھیجے ہیں۔

پاسداران انقلاب کے ایک ترجمان رمضان شریف نے سوموار کو ایک بیان میں کہا کہ ''ہم پہلے بھی متعدد مرتبہ اس بات کی تردید کرچکے ہیں اور اب پھر کہتے ہیں کہ ایران کی شام میں منظم بٹالینز موجود نہیں ہیں''۔

ترجمان کے بہ قول ایران شام میں ایک مشاورتی کردار ادا کررہا ہے اور اس ملک کا دفاع کرنے والوں کے ساتھ اپنے دفاعی تجربے کا تبادلہ کرتا رہتا ہے۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل ایک مغربی انٹیلی جنس ادارے کی ایران کی شام میں فوجی مداخلت سے متعلق ایک رپورٹ سامنے آئی تھی۔اس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران شام کو گولہ بارود اور فوجی کمک پہنچانے کے لیے عام مسافر طیارے استعمال کررہا ہے اورایرانی طیارے عراق کی فضائی حدود سے گذر کر دمشق اور دوسرے شامی شہروں میں فوجی نوعیت کا سازوسامان پہنچا رہے ہیں۔

تب عراق نے مغربی انٹیلی جنس ادارے کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا تھا۔عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے میڈیا مشیر علی الموساوی نے عراق کے خلاف ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا کہ وہ اپنی فضائی حدود کو شام کو اسلحے کی ترسیل کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔

مذکورہ رپورٹ کے مطابق ''ان طیاروں کے ذریعے ایران سے کئی ٹن اسلحہ اور پاسداران انقلاب کے فوجی شام پہنچائے جاتے رہے ہیں۔ایران اورعراق کے درمیان باہمی رابطے کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ روزانہ کئی پروازیں ایران سے فوجی اہلکار اور ساز و سامان لے کر شام کے مختلف شہروں میں اترتی ہیں۔ان پروازوں کا شیڈول بھی تہران اور بغداد کے باہمی مشورے سے طے کیا جاتا ہے''۔