.

ایردوآن کے طلبہ وطالبات کےالگ الگ قیام سے متعلق بیان پر نئی بحث

ترکی کی حکمراں جماعت کے اجلاس میں طلبہ اور طالبات کی نگرانی کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے اپنے ملک کے سیکولرطبقوں کے لیے ایک نئی بحث کا ساماں کردیا ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ ''طلبہ اور طالبات اکٹھے ایک ہی مکان میں نہیں رہ سکتے''۔

ترکی کے پریس میں سوموار کو چھپنے والے اس بیان کے مطابق مسلم مگر سیکولر ملک کے وزیراعظم نے کہا کہ'' طلبہ وطالبات کا اکٹھے رہنا ہمارے ڈھانچے کے خلاف ہے اور یہ ڈھانچا قدامت پسندانہ جمہوری ہے''۔انھوں نے یہ بات انقرہ میں اختتام ہفتہ پراپنی جماعت انصاف اور ترقی پارٹی (اے کے) کے لیڈروں کے ایک اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔

دوترک روزناموں ریڈیکل اور زمان کی رپورٹ کے مطابق ملک میں اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے کوشاں رجب طیب ایردوآن نے کہا کہ ''ان کی حکومت کسی نہ کسی طریقے سے اس صورت حال کی نگرانی کرے گی''۔ترک وزیراعظم کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

ٹویٹر پر ایک صارف جوئیل کراسیو نے اس بیان کے ردعمل میں لکھا ہے کہ ''ترکی کو راسخ العقیدہ اسلامی بنانے کی مہم بڑے ملفوف انداز میں مگر تیزی سے جاری ہے''۔

ترکی کی سیکولر نواز حزب اختلاف کی بڑی جماعت ری پبلکن پیپلزپارٹی (سی ایچ پی) کے لیڈر نے وزیراعظم سے اس بیان کی وضاحت کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ''نگرانی سے آپ کا یہ مطلب ہے کہ آپ ایران کی اخلاقی پولیس کی طرح طلبہ کے لباس کی نگرانی کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کیا پہنتے ہیں''۔انھوں نے سوال کیا کہ کیا یہ نجی زندگیوں پر حملہ نہیں ہے؟

سی ایچ پی کے ایک رکن امت اوران نے پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ''طلبہ اتنے بڑے ہوگئے ہیں کہ وہ اپنی زندگیوں سے متعلق خود فیصلے کرسکتے ہیں''۔روزنامہ حریت کے الکان الکان نامی ایک قاری نے اخبار کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ ''رجب ،آپ اپنی انگلیوں کو بہت زیادہ پھیلا رہے ہیں لیکن آپ کو جان لینا چاہیے کہ ترکی سعودی عرب نہیں ہے''۔

واضح رہے کہ رجب طیب ایردوآن گذشتہ ایک عشرے سے ترکی میں برسراقتدار ہیں۔ان کے مخالفین ان پر ترکی کے سیکولر تشخص کو داغدار کرنے اور ملک میں اسلامی نظام متعارف کرانے کے الزامات عاید کرتے رہتے ہیں۔جون میں ان کی حکومت کے خلاف ترکوں پراسلامی اقدار مسلط کرنے کے الزام میں پہلی مرتبہ بڑے پیمانے احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔