.

سعودی سائنسدان خاتون اقوام متحدہ سائنٹفک ایڈوائزری بورڈ کی رکن

حیات سندی اس سے پہلے یونیسکو کیلیے خیر سگالی سفیر ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے سعودی سائنسدان اور محقق خاتون حیات سندی سے اقوام متحدہ کے تحت قائم سائنٹفک ایڈوائزری بورڈ میں عالمی برادری کے لیے خدمات فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

حال ہی میں قائم کیے گئے اس عالمی سائنس فورم میں دنیا بھر سے 26 سائنسدانوں کی ایک ٹیم کام کرے گی، جو اقوام متحدہ کو سائنس کے شعبے میں مشاورت دے گی۔ اس فورم کا قیام بنیادی طور پر ممالک اور سائنس سے متعلقہ طبقات میں معاملات اور روابط کو بہتر و مستحکم کرنا ہے۔

اس بارے میں حیات سندی کا کہنا تھا'' عرب دنیا سے اس فورم کیلیے منتخب کی جانے والی پہلی خاتون سائنسدان ہونا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، ہمارا اولین مقصد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو سائنس سے متعلق مشاورت دینا ہے تاکہ عالمی ادارہے کو دنیا میں پائیدار ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے میں مدد ملے۔''

حیات سندی سعودی عرب میں تشخیص کی غرض سے قائم کیے گئے ادارے کی شریک ڈائریکٹر ہیں جو کہ ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ انہیں گزشتہ سال اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو میں سائنسی شعبے کیلیے خیر سگالی کی سفیر مقرر کیا گیا تھا۔