.

سعودی عرب: غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف مہم آج سے شروع

سات ماہ کی مہلت ختم، غیر قانونی تارکین وطن ڈیپورٹ ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب سے غیر قانونی تارکین وطن کے لیے رضاکارانہ طور پر واپس اپنے ملکوں کو جانے دستویزات کو قانونی شکل دینے کی مہلت آج ختم ہو گئی ہے۔ اس مہلت کے حوالے جنگ زدہ ملک شام کے شہریوں کو استثنا حاصل ہو گا۔

اس امر کا اعلان سعودی وزیر محنت کی طرف سے کیا گیا ہے۔ واضح رہے سعودی حکومت نےرواں سال 3 اپریل کو غیر قانونی بنیادوں پر کام کیلیے رکنے والے غیر ملکیوں کیلیے تین ماہ کی مہلت کا اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے آپ کو قانون کے دائرے میں لے آئیں یا سعودی عرب سے چلے جائیں۔

لیکن بعد ازاں سعودی حکومت نے متعلقہ ملکوں کی درخواست اور انسانی بنیادوں پر پراس مہلت میں چار ماہ کی توسیع کر دی۔ اب اس مہلت کے خاتمے کے بعد سعودی وزارت محنت کے ترجمان خطاب العنزی نے دو ٹوک کہا ہے کہ حکومت کا اس مہلت میں مزید اضافے کا کوئی ارادہ نہیں۔

اس سے پہلے وزارت محنت نے اعلان کیا تھا کہ جو سعودی یا غیر سعودی شہری کسی غیر قانونی تارک وطن کو پناہ دیں گے انہیں دوسال قید یا ایک لاکھ سعودی ریال کا جرمانہ کیا جاسکتا ہے ، یہ دونوں سزائیں اکٹھی بھی ہو سکتی ہیں،

اب ترجمان نے کہا ہے کہ ہم گھروں کے اندر گھس کر ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتے ۔ وزارت محنت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ جو غیر ملکی اپنے سعودی عرب میں قیام اور کام کو قانونی شکل دینے کی کوشش میں ہیں انہیں بھی گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب وزارت مھنت کے ترجمان جنرل منصور الترکی کا کہنا ہے دستاویزات کو قانونی شکل دینے کی مہلت آج ختم ہو رہی ہے، اس کے بعد ایک مہم چلا کر غیر قانونی تاکین وطن کو ملک بدر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

جنرل منصور الترکی کے مطابق غیر قانونی تارکین وطن کو ڈی پورٹ کیے جانے تک حراستی مراکز میں رکھا جائے گا۔

واضح رہے اس سات ماہ کی مہلت کے دوران 24 لاکھ محنت کشوں نے جرمانوں سے بچنے کیلیے اپنے ویزا کی نوعیت تبدیل کرائی ہے جبکہ نو لاکھ نے اپنے ختم ہوجانے والے ویزوں کی مدت میں توسیع کرائی ہے۔