.

شاعری کے مقابلوں میں عوامی رائے شماری جائز نہیں: سعودی عالم دی

جیوری کے ایک سابق رکن نے فتوے کی حمایت کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی سپریم علماء کونسل کے ایک سینیئر رکن اور ممتازعالم دین علامہ الشیخ عبداللہ بن منیع نے کہا ہے کہ شاعری کے ایسے مقابلوں میں شرکت جائز نہیں ہے جہاں شرکاء اور ناظرین سے شاعری کے بارے میں رائے شماری کرائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیت بازی اور شاعری کے مقابلوں میں رائے دینا بھی ایک قسم کا "جوا" ہے۔ مقابلے میں نقصان کا احتمال نسبتا زیادہ ہوتا ہے، اس لیے ایسے اقدام کو جوے کے شکل قرار دیا جا سکتا ہے۔

درایں اثناء "العربیہ" ٹی وی کے زیر اہتمام ہونے والے شعری مقابلوں کی جیوری کے سابق کویتی رکن علی المسعودی نے سعودی عالم دین کے فتوے کی حمایت کی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ٹیوٹر" پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ سعودی عالم دین کی رائے میں وزن ہے اور اس کے حق میں دلائل موجود ہیں۔

"بیت بازی" کے مقابلے کو"جوئے بازی" کی ایک شکل قرار دیا جا سکتا ہے۔ المسعودی نے اس کی دلیل پیش کرتےہوئے کہا کہ ناظرین کی جانب سے شعری مقابلوں کے لیے موبائل ایس ایم ایس کے ذریعے رائے دی جاتی ہے۔ 'ایس ایم ایس' پرعوام کا پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ اس اعتبارسے اسے جوے کی ایک شکل قرار دیا جا سکتا ہے۔

المسعودی کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی شعری مقابلوں کی ایک جیوری میں شامل رہے ہیں۔ اس طرح کے مقابلوں کے فوائد بھی بہت ہیں لیکن عوام سے موبائل ایس ایم ایس کے ذریعے ان پر رائے طلب کرنے پر مجھے ہمیشہ اعتراض رہا ہے۔