.

غیر قانونی تارکین وطن کوخیراتی اداروں کے ہاں کام کی مشروط اجازت

مشروط اجازت والے تارکین وطن اپنا کفیل تبدیل نہیں کرسکیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی حکومت نے مختلف امدادی اداروں اور دینی مدارس میں کام کرنے والےغیرقانونی تارکین وطن کو اس شرط پر عارضی طورپر کام جاری رکھنے کی اجازت دی ہے کہ وہ اپنا کفیل تبدیل کرتے ہوئے کسی دوسرے ادارے میں نہیں جائیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی وزیر لیبر وافرادی قوت انجینئرعادل الفقیہ نے اپنے ایک "ٹیوٹر" پیغام میں کہا ہے کہ فلاحی اورامدادی تنظیموں کے ہاں کام کرنے والےغیرقانونی تارکین وطن یا دینی مدارس اور تحفیظ القرآن کے حلقات میں خدمات انجام دینے والےغیرملکی باشندوں کو فوری طور پر ملک سے نہیں نکالا جا رہا ہے۔ انہیں عارضی طور پرکام جاری رکھنے کی اجازت ہے مگروہ اپنے طور پر وہاں سے کام چھوڑ کرکہیں اور نہیں جا سکیں گے۔

خیال رہے کہ سعودی وزیرلیبرکا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب حکومت ملک میں قیام پذیرغیرقانونی تارکین وطن کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں وزارت لیبرکے اہلکاراور پولیس مختلف فیکٹریوں اور تجارتی مراکز کی تلاشی لیں گے اورغیرقانونی تارکین وطن کی تلاش کے بعد انہیں متعلقہ ملک میں ڈی پورٹ کیا جائے گا۔

سعودی عرب کے نائب وزیر برائے لیبر ڈاکٹر مفرج الحقبانی نے گذشتہ روز اپنے ایک پیغام میں کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے غیرملکی تارکین وطن کواپنے کاغذات کی درستی اورتمام قانونی معاملات مکمل کرنے کے لیے دی گئی سات ماہ کی مہلت ختم ہوگئی ہے۔ حکومت غیرملکیوں کو اصلاح احوال کے لیے مزید مہلت نہیں دے گی بلکہ ان کے خلاف کارروائی کرکے انہیں سعودی عرب سے نکال دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ غیرقانونی اقامت اختیار کرنے والے افراد کے خلاف قانون حرکت میں آنے والا ہے۔ اس ضمن میں غیرملکی اور اس کا کفیل بننے والے سعودی باشندے کو بھی سزا دی جائے گی۔