.

مصر کا آئینی صدر ہوں، آپ مقدمہ نہیں چلا سکتے: محمد مرسی

عدالت کے کہنے پر ملزمان کیلیے مخصوص لباس پہننے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے عدالت میں اپنے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ آج بھی ملک کے آئینی اور قانونی صدر ہیں اور ان کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا ۔

انہیں پیر کے روز پولیس اکیڈمی میں بطور خاص قائم کردہ عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔اس موقع پر ان کے ہمراہ اخوان کے بعض دیگر قائدین محمد البلتاجی اور عیصام ال العریان وغیرہ بھی موجود تھے ۔ جنہیں صدر مرسی کے ساتھ شریک ملزمان کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر مرسی کی تین جولائی سے نظر بندی کے بعد ان کی عوامی سطح پر انتہائی حفاظتی انتظامات میں یہ پہلی رونمائی تھی۔

معزول صدر نے اس موقع پر رابعہ العدوایہ میں دھرنا دینے اور سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاون کا نشانہ بننے والے مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلیے چار انگلیوں والا نشان بنایا ۔ تاہم عدالتی حکام کے حکم کے مطابق ملزموں کیلیے مخصوص سفید لباس پہننے سے انکار کر دیا۔

معزول صدر نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ وہ اب بھی مصر کے آئینی صدر ہیں اس لیے ان کے خلاف مقدمہ چلانے کا جواز نہیں ہے۔ ان کے الفاظ تھے'' آپ کو میرے خلاف مقدمہ چلانے کا کوئی حق نہیں کیونکہ میں آپ کا صدر ہوں۔''

اس موقع پر جج نے سماعت ملتوی کرنے کی دھمکی دی کیونکہ'' العربیہ ''کے نمائندے کے مطابق معزول صدر نے مکمل طور پر عدالت سے تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔

معزول صدر جنہیں معزولی کے بعد پہلی مرتبہ اپنی جماعت کے قائدین سے عدالت میں بات کرنے کا موقع ملا تھا نے اپنے رفقاء سے حال احوال معلوم کیا ۔

اخوان کے رہنما عیصام العریان جو معزول صدر کے ساتھ شریک ملزم کے طور موجود تھے پہلے ہی یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ عبوری وزیر داخلہ محمد ابراہیم اور فوج کے سر براہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے خلاف مقد مہ چلنا چاہیے۔

مرسی اور اخوان کے دیگر رہنماوں کی عدالت میں موجودگی کے دوران فوجی اقتدار کیخلاف نعرہ بازی بھی کی گئی۔