.

یمن: 100 ہلاکتوں کے بعد شیعہ، سنی جنگجوؤں میں جنگ بندی

حوثی جنگجوؤں کی ریڈکراس کے قافلے پر فائرنگ سے مقامی مترجم ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے جنوبی شہر دماج میں اہل تشیع اور اہل سنت سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے درمیان پانچ روز کی خونریز جھڑپوں کے بعد جنگ بندی ہوگئی ہے۔اس لڑائی میں جنگجوؤں اور شہریوں سمیت کم سے کم ایک سو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

سوموار کو جنگ بندی سے قبل ریڈکراس کا چار گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلہ لڑائی میں زخمی ہونے والے افراد کے علاج اور انھیں وہاں سے نکالنے کے لیے شہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا لیکن اس وفد میں شامل ایک مقامی مترجم کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے۔ریڈ کراس کے وفد پر مبینہ طور پر شیعہ جنگجوؤں نے فائرنگ کی ہے۔

متحارب جنگجوؤں کے درمیان جنگ بندی کا اعلان یمن میں اقوام متحدہ کے ایلچی جمال بن عمر نے کیا ہے۔ یمن کی سرکاری خبررساں ایجنسی کی اطلاع کے مطابق انھوں نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ فریقین کے درمیان مستقل جنگ بندی ہوجائے گی اور مسئلے کو حل کر لیا جائے گا۔

دماج میں سنی سلفیوں اور شیعہ حوثیوں کے درمیان فرقہ وارانہ بنیاد پر گذشتہ بدھ کو جھڑپیں شروع ہوئی تھیں۔حوثی جنگجوؤں نے محض اس شُبے میں اپنے متحارب سلفیوں پر دھاوا بول دیا تھا کہ وہ ان سے لڑائی کے لیے غیرملکی جنگجوؤں کو بھرتی کررہے ہیں جبکہ سلفیوں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی تو طلبہ ہیں اور وہ بیرون ملک سے دارالحدیث اکادمی میں اسلامی علوم کی تعلیم کے لیے آئے ہیں۔واضح رہے کہ دماج سرحدی صوبے صعدہ میں واقع ہے اور اس صوبے کے زیادہ تر حصے میں حوثیوں کا کنٹرول ہے۔

سلفیوں کے ترجمان سرورالوادی نے ایک غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ حوثی جنگجوؤں نے رات بھر دارالحدیث اکادمی اور طلبہ کے کمروں پر حملے جاری رکھے تھے اور ان حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد ایک سو تک پہنچ گئی ہے۔حوثیوں کی جانب سے ہلاکتوں کے کوئی اعداد وشمار سامنے نہیں آئے ہیں۔

یمن کے اس شہر میں جھڑپوں اور دوسرے شہروں میں تشدد کے حالیہ واقعات پرعالمی طاقتوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔یادرہے کہ 2011ء میں انہی طاقتوں کی کوششوں کے نتیجے میں علی عبداللہ صالح کے طویل اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا۔

صنعا میں متعین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممالک اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے سفیروں نے دماج میں فوری طور پر لڑائی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ لڑائی والے علاقے سے باہر فوجیوں کی موجودگی سے کشیدگی کو ہوا مل سکتی ہے اور اس سے تشدد پھیلنے کا خدشہ ہے۔

جمال بن عمر نے بتایا کہ یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی نے دماج سے زخمیوں کو دارالحکومت صنعا منتقل کرنے کے لیے ایک طیارہ بھیجا ہے۔صدر نے اتوار کو یحییٰ ابو اسباع کی قیادت میں ایک سرکاری وفد بھی جنگ بندی کرانے کے لیے اس شہر میں بھِیجا تھا۔یحییٰ ابو اسباع نے بتایا کہ حوثی جنگجو ایک قیدی کی رہائی کے بعد جنگ بندی کے لیے اپنے سابقہ وعدوں سے منحرف ہوگئے ہیں۔