.

حسن روحانی ایران کے جوہری تنازعے پرمذاکرات سے پُرامید نہیں

حکومت اہل مغرب سے موجودہ مذاکرات کے بارے میں کوئی زیادہ مطمئن نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ اپنے ملک کے جوہری تنازعے پر ہونے والے مذاکرات کے بارے میں کوئی زیادہ پُرامید نہیں ہیں۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا نے سوموار کو صدر حسن روحانی کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ''حکومت اہل مغرب اورموجودہ مذاکرات کے بارے میں کوئی زیادہ پُرامید نہیں ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں مسائل کو ختم رکھنے کی کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے''۔

وہ ایران پر عاید کردہ بین الاقوامی پابندیوں کا حوالہ دے رہے تھے۔ان پابندیوں کے ایرانی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ایرانی مذاکرات کاروں اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممالک اور جرمنی کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کا نیا دور 7 اور8 نومبر کو جنیوا ہوگا۔

ان مذاکرات میں مثبت پیش رفت کی صورت میں ایران اگر اپنی جوہری سرگرمیوں میں تخفیف کرتا ہے اور یورینیم کی افزودگی سے دستبردار ہوجاتا ہے تو پھر اس کے بدلے میں اس پرعاید بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی کردی جائے گی۔

ایرانی صدر کا جوہری مذاکرات سے متعلق یہ بیان سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب سے جوہری مذاکرات کے لیے حمایت کے اظہار کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے لیکن انھوں نے بھی کہا تھا کہ وہ ان کے بارے میں پُرامید نہیں ہیں۔

علی خامنہ ای نے کہا کہ ''کسی کو بھی ہماری مذاکراتی ٹیم کو سمجھوتے باز کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے''۔انھوں نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ ''میں جوہری مذاکرات کے بارے میں پرامید نہیں ہوں لیکن اللہ کے فضل سے ہم نقصان برداشت نہیں کریں گے''۔

مغربی طاقتوں اور اسرائیل کو ایران پرشُبہ ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام سے جوہری بم تیار کرنا چاہتا ہے جبکہ ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ اس کے ذریعے جوہری توانائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔