.

"سیکڑوں ایرانی عسکری گروپ شام کے محاذ جنگ میں شریک ہیں"

اسدی افواج کی فتوحات تہران کی مرہون منت ہیں: ایرانی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی مجلس شوریٰ [پارلیمنٹ] کےایک سرکردہ رکن جواد کریمی قدوسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ملک سے سیکڑوں جنگجو گروپ شام میں صدر بشار الاسد کے دفاع میں جنگ لڑ رہےہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کی خارجہ ودفاع کمیٹی کے سینیئررکن مسٹرقدوسی کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کی حامی افواج اورملیشیا کی باغیوں کے خلاف کامیابیاں ایران کے مرہون احسان ہیں۔ اگرتہران ہاتھ ڈھیلا چھوڑ دے توبشارالاسد کے لیے جنگ جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

رکن شوریٰ جواد کریمی قدوسی کا یہ بیان ایرانی خبررساں اداروں نے نقبل کیا ہے۔ شام کے محاذ جنگ میں ایرانی عسکری گروپوں کی شمولیت سے متعلق کسی ایرانی عہدیدار کا یہ پہلا بیان نہیں بلکہ ماضی میں اس نوعیت کے اعترافات کیے جاتے رہےہیں۔ البتہ ایرانی حکومت کا اپنا سرکاری موقف اس سے بالکل مختلف ہے۔ تہران سرکارکا کہنا ہے کہ وہ بشارالاسد کی صرف اخلاقی حمایت کر رہا ہے، جنگ میں تعاون یا فوجی امداد فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔

نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی"ایسنا" کے مطابق جواد کریمی قدوسی نے شام سے متعلق یہ دعویٰ مذہبی شہرمشہد میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ"ہمارے ملک سے شام کے محاذ جنگ میں سیکڑوں عسکری گروپ شامل ہوچکے ہیں۔ آپ اب شام کے ملٹری ترجمان سے مزید فتووحات کی نویدیں سننیں گے۔ تاہم یہ ذہن میں رکھیے گا کہ شام میں بشارالاسد کی وفادار فوج کوجتنی بھی کامیابی ملی ہے اس میں تہران کی مدد اوران عسکری گروپوں کا بہت بڑا کردار ہے"۔