.

ولی الامر رشتہ دار خواتین کی رہائی پر سپرداری لینے کے پابند ہوں گے

قانون کا مقصد قید مکمل کرنے والی خواتین کو مفید شہری بنانا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے عدالتی حکام ایک ایسے قانون کی منظوری پرغور کر رہے ہیں جس کے تحت ولی الامر [سرپرست] کو اس بات کا پابند بنایا جائے گا کہ وہ جیلوں سے رہائی پانے والی اپنی قریبی رشتہ دار خواتین کی سپرداری لینے سے انکار نہیں کریں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو اپنے ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ جیلوں میں اپنی قید کی مدت پوری کرنے والی خواتین کو ان کے سرپرستوں کے سپرد کرنے اور ان کی دیکھ بحال کو یقینی بنانے کے لیے ایک نیا قانون منظور کرنے پرغور کیا جا رہا ہے۔ یہ قانون منظور کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کیونکہ مملکت میں ایسے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں جن میں سرپرستوں نے اپنی رعیت میں شامل قید کاٹنے والی خواتین کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا، جس کے بعد خواتین کو قید ختم ہونے کے باوجود جیلوں میں رہنا پڑ رہا تھا۔

نئے قانون کے تحت کسی بھی خاتون کی سزا مکمل ہونے کے بعد اس کی رہائی کے وقت ولی الامر کا موقع پر موجود ہونا ضروری ہو گا تاکہ خاتون کو ان کے سپرد کیا جا سکے۔ سرپرست سے یہ عہد بھی لیا جائے گا کہ وہ اپنی سرپرستی میں آنے والی خاتون کی ہرممکن نگہداشت کی پابندی کریں گے۔ اگرکوئی سرپرست اپنی قریبی عزیزہ کی سرپرستی سے انکار کردے تو خاتون کو جیل میں رہنا پڑے گا تاوقتیکہ اس کا سرپرست اس کی تحفظ کی ضمانت دیتے ہوئے اسے اپنی سرپرستی میں لینے کا فیصلہ کرلے۔

سعودی عرب کی جیلوں میں زیر حراست خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ سرپرست حضرات کو اپنی رعیت میں آنے والی اسیرات کو قبول کرنے قبول کرنے پابند بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔

انسانی حقوق گروپ کے نائب چیئرمین ڈاکٹر خالد الفاخری نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ گوکہ ناراض سرپرستوں کو منانا ایک مشکل مسئلہ ضرور ہے مگر وہ اس کے حل کے لیے ہرسطح پرجانے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ متعلقہ حکام مسئلے کے حل کے لیے جلد قانون سازی کا عمل مکمل کر لیں گے جس کے بعد سرپرستوں کو قائل کرنا مشکل نہیں رہے گا۔

ڈاکٹر الفاخری نے حکومت اور سرپرست حضرات پر زور دیا کہ وہ جیلوں میں قید رہنے والی خواتین کو ان کے تمام جائز حقوق مہیا کریں تاکہ وہ بھی معاشرے میں ایک کامیاب اور مفید شہر بن سکیں۔ ان کے اور دیگر خواتین کے حقوق میں کوئی تفاوت نہیں ہونا چاہیے، تعلیم، صحت اور رشتہ ازدواج سمیت انہیں تمام حقوق فراہم کرنے کے لیے موثر حکمت عملی اپنائی جانی چاہیے۔