.

سابق تیونسی صدر بورقیبہ کو'دہشت گرد' قرار دینے پر نیا تنازعہ

علماء کونسل کا سابق مفتی کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے ایک سابق مفتی اعظم الشیخ حمدہ سعید کی جانب سے سابق صدر حبیب بورقیبہ [مرحوم] کو دہشت گردی کا باعث قرار دینے سے متعلق بیان نے ملک میں ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔

تیونسی عالم دین اور سابق مفتی کے بیان سے مخالف حلقوں میں اس وقت زیادہ آگ بھڑک اٹھی جب المنستیرشہر میں قائم مرحوم صدر بوقیبہ کے مزار میں ایک خود کش دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں مزار کو بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ ملک کی علماء و آئمہ کونسل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بورقیہ کے مزار پر خود کش حملہ مفتی الشیخ حمدہ سعید کے اکسانے پر کیا گیا۔

علماء کونسل کے سیکرٹری جنرل فاضل عاشور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک پہلے ہی افراتفری کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں کسی بھی مذہبی شخصیت کو کوئی بیان دینے سے قبل اس کے مضمرات پرغور کر لینا چاہیے۔ مفتی حمدہ سعید نے ایک متنازعہ بیان دے کرملک میں ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔

فاضل عاشور کا کہنا تھا کہ علماء کونسل مفتی حمدہ سعید کے بیان کے بعد ان کے خلاف باضابطہ طورپر انضباطی کارروائی کرانے کا ارادہ رکھتی ہے کیونکہ انہوں نے سابق صدر کو دہشت گرد قرار دے کرملک میں دہشت گردی کا ایک نیا در کھول دیا ہے۔ "میں علامہ حمدہ سعید سے یہ استفسار کرتا ہوں کہ کیا وہ تکفیری گروپوں کی حمایت کرنے لگے ہیں اور دہشت گردوں کو کارروائیوں کے لیے گرین سگنل دے رہے ہیں؟ اس بات سے انکار نہیں کہ مرحوم حبیب بورقبیہ کی پالیسیوں اور حماقتوں سے بہت سے لوگوں کواعتراض ہو گا لیکن ان کے چاہنے والے بھی ملک میں موجود ہیں۔ کیا ان سب کو قتل کردیا جائے گا؟

خیال رہے کہ تیونس کے سابق مفتی اعظم علامہ حمدہ سعید نے سرکاری ٹی وی کودیے گئے ایک انٹرویو میں الزام عائد کیا تھا کہ سابق صدر حبیب بورقیبہ مرحوم اور ان کی حکومت ملک میں دہشت گردی کے ناسور کا باعث بنے ہیں۔ جس دن صدر بورقیبہ نے الزیتونہ اسلامی یونیورسٹی کی ایک طالبہ کے سر سے زبردستی سکارف اتارنے کی نازیبا حرکت کے بعد ملک میں حجاب پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تھا اس وقت سے ملک میں دہشت گردی کی داغ بیل ڈال دی گئی تھی۔ اس واقعے نے دینی مدارس کے طلباء میں اشتعال پیدا کیا اور انہیں ملک میں تخریبی کارروائیاں کرنے اور دہشت گردی پر مجبور کر دیا تھا۔

درایں اثناء مفتی حمدہ سعید نے اپنے خلاف ہونے والی ذرائع ابلاغ اور مذہبی حلقوں میں جاری 'بحث' کا جواب دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی اور حبیب بورقیبہ سے متعلق میرے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ میں نے ملک میں دہشت گردی کے اسباب کی بات کی تھی۔ اس ضمن میں جو کچھ میں نے کہا ہے وہ درست ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے فروغ کے ساتھ حبیب بورقیبہ کا تذکرہ اس لیے ضروری ہوتا ہے کیونکہ انہوں نے دینی درسگاہ جامعہ زیتونہ میں مذہبی تعلیم پر پابندی عائد کرتے ہوئے ملک میں اسلام کے خلاف قدم اٹھایا تھا۔ ان کے اس اقدام سے اسلام پسند حلقوں کے دل ٹوٹ گئے تھے اور وہ دہشت گردی کی طرف مائل ہوگئے تھے۔ اگرحبیب بورقیبہ ایسا نہ کرتے توملک میں ہزاروں افراد دہشت گردی کی بھینٹ نہ چڑھتے۔