سوڈان: "آئیبی" میں حق خودارادیت کے لیے ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ

غیرسرکاری ریفرینڈم میں عوام نے علاحدگی کا فیصلہ دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شمالی سوڈان کی حکومت نے جنوبی سوڈان سے متصل تیل کی دولت سے مالا مال صوبے "آئیبی" کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے سرکاری طور پر ریفرنڈم کا فیصلہ کیا ہے۔ گذشتہ ہفتے آئیبی کے "الدنیکا" قبیلے نے اپنے طور پر ایک ریفرنڈم کرایا تھا جس میں 99 فی صد رائے دہندگان نے خرطوم سے علاحدگی کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔

خیال رہے کہ سنہ 2011ء میں تقسیم سوڈان کے وقت دونوں ملکوں نے آئیبی کے علاقے کے مستقبل کا فیصلہ بعد میں کرنے پراتفاق کیا تھا۔ معاہدے میں طے پایا تھا کہ جوبا اور خرطوم دونوں نے متنازعہ علاقہ کو وہاں کے عوام کی امنگوں اور دونوں ملکوں کے مفادات کو مدنظر رکھ کر اس کا فیصلہ کریں گے۔

دس ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا یہ علاقہ قدرتی تیل اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال سمجھا جاتا ہے۔ دو سال قبل تقسیم سوڈان کے وقت عارضی طور پر اس علاقے پر شمالی سوڈان کا کنٹرول تسلیم کیا گیا تھا۔ جنوبی سوڈان نے اس کی حمایت کی تھی۔

پچھلے ہفتے متنازعہ علاقے"آئیبی" کے سب سے بڑے قبیلے"الدنیکا" کے زیراہتمام ایک ریفرنڈم کرایا گیا۔ ریفرنڈم میں 65 ہزار افراد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا جس میں ننانوے فی صد رائے دہندگان نے خرطوم سے علاحدگی کے حق میں رائے دی تھی۔ اس قبائلی ریفرنڈم کے بعد خرطوم نے باضابطہ طور پر ریفرینڈم کا اعلان کیا ہے، جس کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

گوکہ الدنیکا کی جانب سےکرائے گئے ریفرنڈم کو شمالی اور جنوبی سوڈان اورعالمی برادری نے تسلیم نہیں کیا ہے۔ تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ الدنیکا قبیلے کے ریفرنڈم سے متنازعہ خطے کے عوام کا موڈ سامنے آ گیا ہے۔ مبصرین کو خدشہ ہے کہ اگرریفرنڈم کے نتائج خرطوم کے حق میں نہ ہوئے علاقے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں