.

بنگلہ دیش:2009ء کے بغاوت کیس میں 152 فوجیوں کو سزائے موت

بی این پی کے سابق رکن پارلیمان سمیت 160 افراد کو عمر قید کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنگلہ دیشی دارالحکومت ڈھاکا میں ایک عدالت نے فروری 2009ء میں بنگلہ دیش رائفلز کے ہیڈکوارٹرز میں بغاوت کے بعد خون کی ہولی کھیلنے کے جرم میں ایک سو باون افراد کو سزائے موت اور ایک رکن پارلیمان سمیت ایک سو ساٹھ افراد کو عمر قید کا حکم دیا ہے۔

دارالحکومت کے بخشی بازار میں واقع عدالت میں بغاوت کیس میں گرفتار کیے گئے 813 افراد کو پیش کیا گیا۔ان میں بنگلہ دیش رائفلز(بی ڈی آر) کے ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر توحید الاسلام ،بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سابق رکن پارلیمان نصیرالدین احمد پنٹو اور عوامی لیگ کے مقامی رہ نما تراب علی بھی شامل تھے۔

عدالت کے جج اخترالزمان نے بی ڈی آر کے سابق اسسٹینٹ ڈائر یکٹر توحید الاسلام سمیت ایک سو باون افراد کو بغاوت کیس میں قصور وار قراردے کر پھانسی کا حکم دیا ہے اور سابق رکن پارلیمان نصیرالدین پنٹو اور تراب علی سمیت ایک سو ساٹھ افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔مجرموں کے خلاف فیصلہ سنائے جانے کے وقت عدالت اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش رائفلز(اب بارڈر گارڈ بنگلہ دیش) کے اہلکاروں نے 25 اور 26 فروری 2009ء کو اپنے ہیڈکوارٹَرز میں مسلح بغاوت کردی تھی اور اس دوران انھوں نے چوہتر افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ان میں بی ڈی آر کے ستاون اعلیٰ اور درمیانے درجے کے افسر شامل تھے۔

بارڈر گارڈ کے باغی اہلکاروں نے فوجی ہیڈکوارٹرز سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی لوٹ لیا تھا۔ان سرحدی محافظوں نے مارے گئے افسروں کی لاشیں گٹروں میں بہادی تھیں یا انھیں کم گہری قبریں کھود کر دفن کردیا تھا۔باغی اہلکاروں نے افسروں کے گھروں میں بھی لوٹ مار کی تھی اور ان کے خاندانوں کو بندوق کی نوک پر یرغمال بنا لیا تھا۔

اس کیس میں کل آٹھ سو پچاس افراد پر فرد الزام عاید کی گئی تھی۔ان میں بی ڈی آر کے آٹھ سو تیئس اہلکار اور تیئس عام شہری شامل تھے۔ان میں سے آٹھ سو تیرہ ملزمان گرفتارہیں ،تیرہ ضمانت پر اور بیس مفرور ہیں جبکہ چار دوران حراست ہلاک ہوگئے تھے۔عدالت نے باقی مجرموں کو بغاوت میں معاونت پر مختلف مدت کی قید کی سزائیں سنائی ہیں۔