.

دسمبر سے قبل شام سے متعلق جنیوا کانفرنس نہیں ہوگی:روس

''روس اورامریکا نے جنیوا مذاکرات کے پیشگی شرائط کے بغیر انعقاد سے اتفاق کیا تھا''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے بارے میں مجوزہ جنیوا امن کانفرنس نومبر میں نہیں ہوگی بلکہ اس کے بجائے یہ دسمبر میں متوقع ہے۔

روس کی خبررساں ایجنسی اترتاس نے جنیوا امن مذاکرات کی تیاریوں میں شریک ایک ذریعے کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔امریکا اور روس مئی سے شام میں گذشتہ بتیس ماہ سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے جنیوا میں امن کانفرنس بلانے کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔

لیکن اس کانفرنس کے انعقاد کی راہ ابھی تک متعدد رکاوٹیں حائل ہیں۔اب شامی حزب اختلاف نے صدر بشارالاسد کے استعفے کے کسی پکے وعدے کے بغیر کانفرنس میں شرکت سے انکار کردیا ہے جبکہ اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی لخضر الابراہیمی کا کہنا ہے کہ شامی حزب اختلاف کی شرکت کے بغیر یہ کانفرنس منعقد نہیں ہوگی۔

لخضر الابراہیمی نے مشرق وسطیٰ کے حالیہ دورے کے بعد جنیوا میں امریکی اور روسی حکام سے ملاقات کی ہے۔اترتاس نے اپنے غیرشناختہ ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ جنیوا دوم کانفرنس دسمبر سے قبل نہیں ہوگی۔

درایں اثناء روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ جنیوا اعلامیے کے برعکس چل رہا ہے۔روسی وزیرخارجہ نے کہا شامی حزب اختلاف نے جو نئی شرائط عاید کی ہیں،ان میں ایک یہ ہے کہ ایران اس میں شرکت نہ کرے،دوسری یہ کہ قومی اتحاد کو صدر بشارالاسد کے استعفے کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے۔ان کی تیسری شرط یہ ہے کہ بشارالاسد کے مخالفین کو زیادہ فعال انداز میں مسلح کیا جائے۔

سرگئی لاروف نے منگل کو اپنے بیان میں کہا کہ ''روس اور امریکا نے اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ جنیوا دوم کانفرنس پیشگی شرائط کے بغیر لیکن جنیوا اعلامیے کے مطابق ہونی چاہیے''۔

ان کا موقف تھا کہ''شامی قومی اتحاد کو اپنے وجود کی کوئی حمایت حاصل نہیں ہے۔یہ محدود سے محدودتر ہوتا جارہا ہے اور اس کے مقابلے میں صدر بشارالاسد کے دوسرے مخالفین کا حقیقی اثرورسوخ ہے''۔

وہ شامی قومی اتحاد کے سربراہ احمد الجربا کی قاہرہ میں اتوار کو عرب لیگ کے اجلاس میں تقریر کا حوالہ دے رہے تھے جس میں انھوں نے ''مخصوص نظام الاوقات میں اقتدار کی کامیاب منتقلی اور ایران کی شرکت کی صورت میں جنیوا مذاکرات میں نہ جانے کا اعلان کیا ہے''۔

انھوں نے عرب لیگ کے رکن ممالک سے شامی باغیوں کو مزید اسلحہ مہیا کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا کہ ان کا اتحاد اس بات کی ضمانت دینے کو تیار ہے کہ یہ اسلحہ غلط ہاتھوں میں نہیں جائے گا۔ انھوں نے عرب ریاستوں سے شامیوں کی مزید مدد کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ بین الاقوامی برادری تو مجہول اور ناکارہ ہوچکی ہے۔

واضح رہے کہ شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی لخضرالابراہیمی کا بھی کہنا ہے کہ جنیوا مذاکرات کے لیے کوئی پیشگی شرائط نہیں ہوں گی لیکن شامی حزب اختلاف ابھی تک اپنے مطالبات پر ڈٹی ہوئی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات سے قبل بشارالاسد مستعفی ہوں۔