.

تیونسی صدر کا توہین رسالت کے مجرم کو رہا کرنے کا اعلان

فیس بُک پر توہین آمیز خاکے پوسٹ کرنے والا قید کی سزا کاٹ رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے روشن خیال صدر منصف مرزوقی نے فیس بُک پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکے پوسٹ کرنے کے جرم میں قید کی سزا کاٹنے والے نوجوان کو ملک میں صورت حال بہتر ہونے کی صورت میں رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تیونس کی ایک عدالت نے مارچ 2012ء میں جبور مجری کو پیغمبر اسلامﷺ کے توہین آمیز خاکے فیس بُک پر اپنے صفحے پر پوسٹ کرنے کے جرم میں ساڑھے سات قید کی سزا سنائی تھی۔اس نے اسی سال کے آغاز میں سزا کی معافی کے لیے صدر کو اپیل کی تھی اور اس میں کہا تھا کہ اسے اپنے کیے پر افسوس ہے۔

صدر منصف مرزوقی نے بدھ کو فرانسیسی ریڈیو کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ''میں اسے آزاد کردوں گا،میں صرف صورت حال کے بہتر ہونے کا انتظار کررہا ہوں۔اس وقت ملک میں بہت زیادہ کشیدگی ہے اور ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''میں اسے رہا کردوں گا ،میں صرف اس کے تحفظ اور ملک کی سلامتی کے لیے بہتر موقع کی تلاش میں ہوں''۔

مجری کے ساتھ اس کیس میں ایک اور تیونسی نوجوان غازی بیجی کو قصوروار قراردیا گیا تھا۔یہ دونوں بے روزگار تھے اور دونوں انتہا پسند ملحد کے طور پر جانے جاتے تھے۔عدالت میں ان پر نقضِ امن عامہ اورعوامی شائستگی کو مجروح کرنے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔بیجی اسی سال ملک سے فرار ہوکر فرانس چلا گیا تھا اور اس نے وہاں پناہ لے لی تھی۔

اس کیس سے تیونس میں ایک نیا تنازعہ شروع ہوگیا تھا۔حزب اختلاف کے سیکولر گروپوں اور انسانی حقوق کے علمبردار کارکنان کا کہنا تھا کہ مدعاعلیہان کو ''ضمیر کے جرم'' پر قصوروار قراردیا گیا ہے۔

ناقدین اسلامی جماعت النہضہ کی قیادت میں حکومت پر ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے الزامات عاید کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مذہب کو اظہار رائے کی آزادی کو دبانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ تیونس میں حزب اختلاف کے دو لیڈروں کے اسی سال کے اوائل میں قتل کے بعد سے سیاسی بحران جاری ہے اور حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کے لیے کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔