.

ایرانی پراسیکیوٹر سرحدی علاقے میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک

مقتول پراسیکیوٹر منشیات کے اسمگلروں کے خلاف سخت رویہ رکھتے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے پاکستان کی سرحد کے نزدیک واقع شورش زدہ جنوب مشرقی صوبے سیستان ،بلوچستان میں مسلح افراد نے ایک سرکاری پراسیکیوٹر کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس کی اطلاع کے مطابق پراسیکیوٹر موسیٰ نوری کو پاکستانی سرحد کے نزدیک واقع قصبے زابل میں قتل کیا گیا ہے۔ایک اور خبررساں ایجنسی ایسنا نے صوبے میں عدلیہ کے سربراہ ابراہیم حمیدی کے حوالے سے بتایا ہے کہ مقتول کا اکتوبر میں دی گئی پھانسیوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ سیستان،بلوچستان میں ہلاکت کے اس واقعہ کا بھی صوبے میں جاری بدامنی سے تعلق ہے یا اس کا سبب کوئی اور ہے۔ایران کے سرکاری ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ مقتول پراسیکیوٹر افیون اور دوسری منشیات کے اسمگلروں کے بارے میں سخت رویہ رکھتے تھے۔

اس واقعہ سے چند روز قبل اسی علاقے میں ایران کی سکیورٹی فورسز نے جھڑپ میں ایک انتہا پسند باغی گروپ کے چار کارکنان کو ہلاک کردیا تھا۔مقتولین کے بارے میں ایک ایرانی کمانڈر نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے میں چودہ ایرانی محافظوں کی ہلاکت کے واقعہ میں ملوث تھے۔

جیش العدل نامی تنظیم نے صوبہ سیستان، بلوچستان کے پہاڑی علاقے میں 25 اکتوبر کو تباہ کن حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔اس حملے میں ایران کے چودہ سرحدی محافظ ہلاک اور سات زخمی ہوگئے تھے۔

ایران نے اس واقعے کے فوری بعد سولہ ''باغیوں'' کو پھانسی چڑھا دیا تھا۔ان میں سے آٹھ مزاحمت کار اور آٹھ منشیات کے اسمگلر تھے اور انھیں عدالتوں سے پھانسی کی سزا سنائی جاچکی تھی۔

واضح رہے کہ ایران کے جنوب مشرقی علاقے میں ایک اور جنگجو گروپ جنداللہ بھی ماضی میں شہریوں اور سرکاری اہلکاروں پر حملے کرتا رہا ہے۔ایران نے اس تنظیم کے سربراہ عبدالمالک ریگی کو جون 2010ء میں گرفتار کرنے کے بعد پھانسی دے دی تھی۔

پاکستان کی سرحد کے ساتھ واقع اس شورش زدہ علاقے میں اہل سنت کی اکثریت ہے اور وہ نسلی طور پر پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں آباد بلوچ قبائل کے زیادہ قریب ہیں۔وہ پاکستانیوں کے ساتھ غیرسرکاری طور پر تیل سمیت مختلف اشیاء کی تجارت بھی کرتے رہتے ہیں۔اس علاقے میں منشیات کے اسمگلروں اور جنگجوؤں کی ایرانی سکیورٹی فورسز کے ساتھ وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔