.

دس دنوں کے دوران ایران میں 42 ملزمان کو پھانسی

ایرانی عدالتوں پر غیرشفاف مقدمات چلانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی عدالتوں کے حکم پر تہران سیکیورٹی حکام نے گذشتہ دس ایام میں قتل، منشیات کا دھندہ کرنے اور سیاسی امور میں مداخلت کی پاداش میں کم سے کم بیالیس افراد کو فنا کے گھاٹ اتار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی عدالتی حکام نے دس دنوں کے دوران کرمان شہر کے چھ اور سمنان کے دو باشندوں کو منشیات کا کاروبار کرنے کے جرم میں پھانسی کی سزا دلوائی ہے۔

ایرانی شہر کرمان شاہ میں پانچ افراد کو قتل اور 16 کو حکومت مخالف سرگرمیوں کے جرم میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ ارومیہ شہر میں گیارہ ملزمان کو ایک ہی دن میں پھانسی دی گئی۔ پھانسی پانے والے ملزمان میں قتل اور منشیات کے جرم میں پکڑے جانے والے افراد بھی شامل تھے۔ خرم آباد میں عبدالمالک ریگی کے گروپ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بھی پھانسی دی گئی۔ پھانسی پانے والوں میں تین کرد سیاسی کارکن شیرکوہ معارفی، حبیب اللہ کلبری اور رضا اسماعیلی بھی شامل ہیں۔

درایں اثناء ایران میں اقوام متحدہ کے مندوب برائے انسانی حقوق احمد شہید نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ تہران میں جیسے ہی امن وامان کی صورت حال میں معمولی خرابی پیدا ہوتی ہے تو حکومت جیلوں میں قید ملزمان کو پھانسیاں دینا شروع کر دیتی ہے۔

اقوام متحدہ کے مندوب کا کہنا تھا کہ ایران کی انقلاب عدالتوں میں مختلف جرائم میں پکڑے گئے ملزمان کا شفاف اورمنصفانہ ٹرائل نہیں کیا جاتا۔عدالتیں اپنی مرضی کے فیصلے جاری کرتی ہیں۔ ملزموں کواپنی مرضی کا وکیل مقرر کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ پھانسی کی سزایافتہ کئی ملزمان کی جانب سے انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپیلیں بھی کر رکھی تھیں مگران کی اپیلوں پرکوئی توجہ نہیں دی گئی۔

ادھرایرانی حکومت کے ایک عہدیدار نے "یو این" مندوب احمد شہید کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ احمد شہید سیاسی جانب داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ایرانی عدالتیں ملزمان کے خلاف شفاف طریقے سے مقدمہ چلانے کے بعد منصفانہ بنیادوں پر فیصلہ دیتی ہیں اور کسی شخص کے ساتھ زیادتی نہیں کی جاتی۔

ایرانی اپوزیشن نے بھی زیرحراست افراد کواندھا دھند پھانسی پر لٹکانے کے حکومتی رویے کی سخت مخالفت کی ہے۔ اپوزیشن حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت ریاست کو درپیش سیکیورٹی چیلنجزکے خاتمے کی آڑ میں محروسین کو قتل کر رہی ہے۔