.

سلامتی کونسل میں ریاض کی جگہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں: کویت

سعودی عرب کو یو این میں کردارادا کرنے پر قائل کر رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت کی حکومت نے ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان خبروں کی ترید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ کویت، سعودی عرب کی جگہ سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت کا خواہاں ہے۔ کویتی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ سعودی عرب کو سلامتی کونسل کی عارضی رکنیت قبول کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ خود کویت کا اس نشست کے لیے دعوے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ اکتوبر کے اوائل میں سلامتی کونسل نے سعودی عرب کے لیے عارضی [مبصر] رکنیت کی سفارش کی تھی تاہم سعودی عرب نے یہ کہہ کر نشست قبول کرنے سے معذرت کرلی کہ عالمی ادارے میں پہلے اصلاحات لائی جائیں۔ اس کے بعد ریاض اس نوعیت کی کوئی اہم ذمہ داری قبول کرے گا۔

کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "کونا" کے مطابق سیکرٹری خارجہ خالد جاراللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ برادر ملک سعودی عرب اپنے عالمی کردار اور سیاسی وسفارتی قد کاٹھ کے باعث سلامتی کونسل میں نمائندگی کا حق رکھتا ہے۔ ریاض کے سلامتی کونسل میں جانے سے بہت سے مسائل اور تنازعات کے حل میں مدد ملے گی، لہٰذا سعودی عرب کو کونسل کی عارضی نشست قبول کرنے سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔

قبل ازیں منگل کو کویت اور بعض دوسرے ملکوں کے اخبارات نے ذرآئع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ سعودی عرب کی معذرت کے بعد کویت سلامتی کونسل میں غیرمستقل نشست کا خواہاں ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے تمام انتظامات بھی مکمل کرلیے ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی عرب سلامتی کونسل میں مبصر رکن کا درجہ حاصل کرنے سے قبل عالمی ادارے کو فعال بنانے کا مطالبہ کرچکا ہے۔ اکتوبر کے آغاز میں جب سلامتی کونسل نے سعودی عرب کو مشرق وسطیٰ سے ایک مبصر کا درجہ دینے کی سفارش کی تو سعودی عرب نے یہ کہہ کرمعذرت کرلی کہ وہ غیر فعال ادارے کی رکنیت قبول نہیں کرے گا۔

سعودی عرب کے لیے مبصر رکن کی سفارش سے قبل سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور ایٹمی اسلحے سے پاک خطہ بنانے کے حوالے سے جاری بحث بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی تھی۔ اس پرسعودی عرب نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔