.

پابندیوں میں کمی ایران کے اقدامات سے مشروط ہے: امریکا

ایران سے رابطوں کا عرب دنیا پر اثر نہیں ہو گا: وینڈی شرمین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی طرف سے ایران کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر اعادہ کیا گیا ہے کہ جب تک ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی طاقتوں کی تشویش دور کرنے کیلیے ٹھوس اقدامات نہ کیے، اسے اقتصادی پابندیوں سے قابل ذکر ریلیف نہیں ملے گا۔ امریکی انڈر سیکرٹری برائے سیاسی امور وینڈی شرمین نے اس امر کا اظہار ''العربیہ '' کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا ہے۔

شرمین کا کہنا تھا '' ایرانی معیشت سخت مشکلات کا شکار ہے اس لیے اس کی خواہش ہے کہ اسے پابندیوں میں ریلیف دیا جائے تاکہ اس کے شہریوں کو سکھ کا سانس آ سکے۔'' لیکن امریکی عہدیدار نے واضح کیا کہ ''ابھی امریکا کسی سمجھوتے پر نہیں پہنچا ہے کہ ایران پر عاید پابندیاں ختم یا کم کی جائیں۔''

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شرمین نے کہا ''ایران پر عاید پابندیاں کسی حد تک اٹھانے کی یہی صورت ہے کہ ایران پہلے مرحلے پر اپنی بے گناہی ثابت کرے، تاہم بنیادی اور بامعنی قسم کی پابندیاں اس وقت تک باقی رہیں گی جب تک ایران کیساتھ کوئی باقاعدہ معاہدہ نہیں ہو جاتا۔''

امریکی انڈر سیکرٹری کا یہ بھی کہنا تھا '' جب ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف چھ بڑے ممالک کے وزرائے خارجہ سے ماہ اکتوبر میں ملے تو انہوں نے ایرانی جوہری پروگرام کا تنازعہ ایک سال کے اندر طے کرنے کیلیے کہا تھا۔''

وینڈی شرمین کے مطابق مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک سال تک کسی سمجھوتے پر پہنچنے سے پہلے ایران جوہری بم بنانے کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے، اس لیے ایران کو مذاکرات کے دوران ہی اپنا جوہری پروگرام نیچے لانا ہو گا اور ایک معاہدے کی صورت میں جامع انسپیکشن اور معائنہ کاروں کی تصدیق بھی لازمی ہو گی۔

امریکی عہدے دار نے کہا ''ہم یہ چاہتے ہیں کہ ایرانی جوہری پروگرام میں مزید ترقی نہ ہوبلک اسے رول بیک کیا جائے۔''

ایک سوال کے جواب میں وینڈی شرمین نے کہا'' ایران کے ساتھ مذاکرات اور رابطوں سے امریکا کے عرب دنیا کے ساتھ روابط پر منفی اثر مرتب نہیں ہو گا۔''