.

القاعدہ اسنوڈن کے انکشافات پر خوش ہے:برطانوی انٹیلی جنس چیفس

''ہم اپنا وقت اکثریت کی فون کالز سننے یا ای میلز پڑھنے میں ضائع نہیں کرتے''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے تین بڑے سراغرساں اداروں کے سربراہوں نے ارکان پارلیمان کو بتایا ہے کہ القاعدہ اور برطانوی انٹیلی کے دوسرے اہداف امریکا کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کے سابق کنٹریکٹر ایڈورڈ اسنوڈن کے انکشافات پر خوش ہیں۔انھوں نے امریکا کی جاسوسی کی دستاویزات کے افشاء کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

جارج اسنوڈن نے وکی لیکس کی طرح امریکا کی ہزاروں لاکھوں خفیہ دستاویزات منکشف کرکے سراغرسانی کی دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیا ہے اور اب امریکا اور برطانیہ کو ان انکشافات پر اپنے اتحادی ممالک کے سامنے وضاحتیں کرنا پڑ رہی ہیں۔

برطانیہ کی خفیہ ایجنسی جی سی ایچ کیو کے سربراہ آئن لوبان نے جمعرات کو پارلیمان کی انٹیلی جنس اور سکیورٹی کمیٹی کے روبرو اسنوڈن کے انکشافات کے تناظر میں بریفنگ دی ہے۔انھوں نے کمیٹی کے ارکان کو بتایا کہ ان کے جاسوس اپنی ایجنسی کے اہداف غیرمجاز انکشافات کے حوالے سے گفتگوؤں کو قریباً روزانہ کی بنیاد پر ریکارڈ کرتے رہے ہیں۔

انھوں نے یہ انکشاف کیا کہ ''القاعدہ اسنوڈن کے انکشافات پر خوشی سے تالیاں پیٹ رہی ہے''۔ان کے علاوہ برطانیہ کی بیرون ملک سراغرسانی کی ذمے دار ایجنسی ایم آئی 6 کے سربراہ جان سیورس اور برطانیہ کی داخلی خفیہ ادارے ایم آئی 5 کے سربراہ اینڈریو پارکر نے بھی پہلی مرتبہ ٹیلی ویژن پر نوے منٹ تک بریفنگ دی ہے۔

تینوں جاسوسی اداروں کے سربراہان کا بالاصرار کہنا تھا کہ ان کی ایجنسیاں قانون کے دائرہ کار میں رہ کر اور مناسب کام کررہی ہیں۔مسٹر لوبان نے بتایا کہ ''ہم اپنا وقت اکثریت کی ٹیلی فون کالیں سننے یا ای میلز پڑھنے میں ضائع نہیں کرتے ہیں''۔

انھوں نے شام میں جاری جنگ ،برطانیہ کے خلاف سائبر حملوں اور شمالی آئیر لینڈ کی جانب سے دہشت گردی کے حملوں کے بارے میں تفصیل سے اظہار خیال کیا۔تاہم بریفنگ کے دوران برطانیہ کے انٹیلی جنس سربراہوں کی زیادہ تر توجہ شام پر مرکوز رہی۔ایم آئی 5 کے سربراہ پارکر نے خبردار کیا کہ برطانیہ سے بھی نوجوان شام میں اسلامی انتہا پسندی کی جانب سے لڑنے کے لیے جارہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان کی انٹیلی جنس سروس نے دیکھا ہے کہ برطانیہ سے سیکڑوں نوجوان لڑائی کے لیے شام گئے ہیں اور ان میں سے بعض واپس بھی آگئے تھے۔واضح رہے کہ یورپی انٹیلی جنس حکام ایک عرصے سے خبردار کرتے چلے آرہے ہیں کہ شام میں باغی جنگجوؤں اور صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے درمیان لڑائی یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے غیرملکی جنگجوؤں کو بھی اپنی جانب راغب کررہی ہے اور ان میں سے بہت سوں نے وہاں جا کرانتہا پسند گروپوں میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔