.

ایران کے ساتھ جوہری تنازعے پر ڈیل تاریخی غلطی ہوگی:نیتن یاہو

6 بڑی طاقتیں ایران کو جوہری پروگرام کے مکمل خاتمے پر مجبور کرسکتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے جوہری پروگرام کی مخالفت میں پیش پیش صہیونی ریاست اسرائیل نے اسلامی جمہوریہ کے خلاف عاید کردہ عالمی پابندیوں کے خاتمے کے لیے مجوزہ معاہدے کی مخالفت کردی ہے اور کہا ہے یہ ایک تاریخی غلطی ہوگی۔

انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے مقبوضہ بیت المقدس میں جمعرات کو ایک کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ''اسرائیل سمجھتا ہے آج جنیوا میں ایسی تجاویز پیش کی جارہی ہیں جن کے تحت ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے صلاحیتوں کو برقرار رکھ سکے گا''۔

''اسرائیل ان تجاویز کی مکمل مخالفت کرتا ہے۔میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ اگر ان تجاویز کو اختیار کرلیا جاتا ہے تو یہ تاریخ میں ایک بڑی غلطی ہوگی''۔ان کا کہنا تھا۔

انھوں نے یہ انتباہ ایسے وقت میں کیا ہے جب جنیوا میں آج ہی ایران اور چھے بڑی طاقتوں ،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی کے نمائندوں کے درمیان جوہری تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات کا نیا دور شروع ہوا ہے۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ''ایران کی فوجی جوہری صلاحیت کے خاتمے سے قبل اس کے خلاف عاید کردہ عالمی پابندیوں کو نرم نہ کیا جائے''۔انھوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف اسرائیل کا یک طرفہ فوجی اقدام بدستور زیرغور رہے گا۔

انھوں نے کہا کہ ایران پر عاید کردہ پابندیوں نے اس کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔چھے بڑی طاقتیں ایران کو جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے مکمل خاتمے پر مجبور کرسکتی ہیں۔اس کا یہ مطلب یہ ہے کہ یورینیم کی افزودگی کی تمام سرگرمیاں ختم کردی جائیں اور بھاری پن کے پلوٹونیم ری ایکٹر پر جاری کام بھی بند کردیا جائے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری تنازے پر ڈیل جلد طے پاجائے گی جس کے تحت وہ یورینیم کو اعلیٰ سطح تک افزودہ کرنے کے پروگرام کو منجمد کردے گا اور اس کے بدلے میں اس کے خلاف عاید کردہ بین الاقوامی پابندیوں میں نرمی کردی جائے گی۔

اسرائیل مشرق وسطیٰ کی واحد غیرعلانیہ جوہری طاقت ہے لیکن وہ ایران کے جوہری پروگرام کی ابتداء ہی سے مخالفت کرتا چلا آرہا ہے ۔اب وہ ایران کے خلاف عاید کردہ بین الاقوامی پابندیوں کو ہٹانے کی بھی مخالفت کررہا ہے۔

مغربی طاقتوں اور اسرائیل کو ایران پرشُبہ ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام سے جوہری بم تیار کرنا چاہتا ہے جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ اس کے ذریعے جوہری توانائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔