.

صحافیوں کے قتل کا ''کھرا'' القاعدہ کی طرف ہی جاتا ہے: فرانس

فرانس کے دو صحافیوں کو شمالی مالے میں اغوا کے بعد قتل کیا گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے دو صحافیوں کے القاعدہ کے ہاتھوں ہلاکت کی فرانس نے تصدیق کرتے ہوئے کہ ہے کہ دونوں صحافیوں کے قتل بظاہر افریقہ میں موجود القاعدہ گروپوں نے کیا ہے۔

ایک عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس کے وزیر خارجہ لارینٹ فیبئیس نے کہا ہے کہ '' ہم اس معاملے کی تصدیق کر رہے ہیں، تاہم ظاہری طور پر شواہد القاعدہ کے حوالے سے ہی نظر آ رہے ہیں۔''

واضح رہے فرانس کے دو صحافیوں 57 سالہ غسلینی دپونٹ اور 55 سالہ کلیوڈے ویر لون کو شمالی مالے میں اغوا کے بعد ہلاک کر دیا گیا تھا۔

القاعدہ سے منسلک گروپ کے کمانڈر عبدالکریم الترگئی کے ترجمان نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اب اس بارے میں وزیر خارجہ فرانس نے غیر رسمی طور پر تصدیق کر دی ہے۔

القاعدہ ترجمان کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا '' دو صحافیوں کا قتل محض ایک چھوٹی سی قیمت ہے جو فرانس کی صدر کو ادا کرنی ہے، اس مداخلت کی جو وہ کر رہی ہیں۔