طرابلس کی گلیوں میں طیارہ شکن اور گرینیڈز کا آزادانہ استعمال

مسلح گروپ ایک دوسرے کیخلاف سرگرم، دو سال میں امن نہ آ سکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے مختلف حصوں میں طیارہ شکن ہتھیاروں اور گرینیڈز کا استعمال کیا گیا ہے، جس سے دارالحکومت میں رات گئے خوف پھییل گیا۔ اسی ہفتے کے دوران اس نوعیت کی کارروائی کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے بھی طرابلس کی متحارب ملیشیاوں کے درمیان تصادم ہو چکا ہے۔

سرکاری سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھاری اسلحے سے مسلح گروپ دارالحکومت میں داخل ہو چکے ہیں۔ جن کا مقصد مخالف مسلح گروپ سے اپنے ساتھی کے قتل کا بدلہ لینا ہے۔ واضح رہے قتل کا یہ واقعہ منگل کے روز طرابلس میں پیش آیا تھا۔

معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمہ کے لیے اہم کردار ادا کرنے والے گروپ مسلسل اسلحے کا استعمال کر رہے ہیں اور دو برس گذرنے کے بعد بھی لیبیا میں امن قائم نہیں ہو سکا ہے۔

منگل کے روز طرابلس کی گلیوں میں انہی گروپوں کے درمیان ایک دوسرے پر حملوں کے واقعات ہوئے۔ جن کے نتیجے میں ایک گروپ کا ایک اہم ساتھی مارا گیا۔ اب اس کی ہلاکت کا انتقام لینے کیلیے لشکر طرابلس پہنچے ہیں۔

شہر میں کئی جگہوں پر فضا کشیدگی اور خوف کی زد میں رہی کہ مسلح گروپوں کے دستے ٹویوٹا ڈبل کیبنز پر طیارہ شکن ہتھیار رکھ کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے رہے۔ طیارہ شکن ہتھیاروں اور گرینیڈز کے استعمال کی آوازیں وزارت خارجہ تک سنی گئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں